آتا ہے خوف آنکھ جھپکتے ہوئے مجھے
لیتے ہیں لوگ سانس بھی اب احتیاط سے
ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے حساس ریاست اترپردیش میںکسی بھی وقت انتخابات کا بگل بج سکتا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے اس سلسلہ میں تیاریوں کا آغاز کردیا ہے اور ریاست کا دورہ بھی کیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں سے انتخابات کے انعقاد پر مشاورت بھی کی جا چکی ہے ۔ کچھ گوشوں سے یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ انتخابات کو موخر کیا جاسکتا ہے ۔ ریاست میںصدر راج نافذ کرتے ہوئے اومی کرون اور کورونا کی وجہ سے انتخابات کو ملتوی بھی کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے آج یہ واضح کردیا گیا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے انعقاد کی حمایت کی ہے ۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کو ٹالنے کے حق میں نہیں ہے اور انہیں یہ اندیشے بھی لاحق ہیں کہ اگر انتخابات کا التواء کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں ان کے اپنے انتخابی امکانات متاثر ہوسکتے ہیں اور بی جے پی درمیانی وقت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتی ہے ۔ ہمارے ملک میں انتخابات کو ملتوی کرنے اور صدر راج نافذ کرنے کی دستوری گنجائش موجود ہے تاہم انتخابات کا بروقت انعقاد بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس صورتحال میں جبکہ تمام جماعتیں چاہتی ہیں کہ مقررہ وقت پر ہی انتخابات کروائے جائیں تو اس میں حد درجہ احتیاط لازمی ہے ۔ تمام جماعتیں چونکہ انتخابات کی حامی ہیںاس لئے ان کے التواء کا امکان کم ہوگیا ہے ۔ ایسے میںمرکزی ہو یا ریاستی ہو صحت سے متعلق محکمہ جات کو سرگرم ہونے کی ضرورت ہے ۔ الیکشن کمیشن کو بھی محکمہ صحت سے اشتراک کرتے ہوئے انتخابات کے دوران بھیڑ بھاڑ کو جمع کرنے سے روکنے کے رہنما خطوط جاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک محکمہ صحت کی رائے نہیںلی جاتی اس وقت تک صورتحال کو سنگین ہونے سے بچانا انتخابی ماحول میں مشکل ہو جائیگا ۔ اس سلسلہ میں ہمارے سامنے بہار اور مغربی بنگال کی مثالیں موجود ہیںجہاںکورونا کو انتخابات کے دوران کی گہما گہمی کے نتیجہ میںفروغ حاصل ہوا تھا ۔ عوامی صحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سابقہ غلطیوں کا ایک بار پھر اعادہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔
الیکشن کمیشن کی جہاںذمہ داری ہے کہ وہ بروقت انتخابات منعقد کروائے اور ان کا انعقاد غیر جانبدارانہ و منصفانہ انداز میں ہو ۔ تاہم حکومتوں کی اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی صحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ عوامی صحت پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کسی بھی وجہ سے نہیں کیا جانا چاہئے ۔ محکمہ صحت کو چاہئے کہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے ۔ ماہرین اور ڈاکٹرس کی رائے حاصل کی جائے ۔ ان کے مشوروں سے عوام کے نام رہنما خطوط جاری کئے جائیں۔ عوام کو احتیاط کی اہمیت سے واقف کروایا جائے ۔ انہیں اس بات کا احساس دلایا جائے کہ صحت کو برقرار رکھنا اور وباء سے بچنا ان کی اپنی ذمہ داری بھی ہے اور ان کے ہاتھ میں بھی ہے ۔ ممکنہ حد تک احتیاط سے کام لیتے ہوئے وباء کو شدت سے پھیلنے سے روکنے میں عوام بھی سرگرم رول ادا کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میںشعور بیدار کیا جائے ۔ انہیںاحتیاط کی اہمیت سے واقف کروایا جائے ۔ دو مرتبہ کی کورونا لہر کے نتائج سے انہیں واقف کروایا جائے ۔ جو نقصانات کورونا کی دو لہروں میں ہوئے ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کئے جائیں جن کے نتیجہ میں اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے ۔ اس کی شدت میں کمی لائی جاسکے اور عوام کو اور ملک کو نقصانات سے ممکنہ حد تک بچایا جاسکے ۔ الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں محکمہ صحت سے سرگرم اشتراک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی صورتحال پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔
جہاں تک سیاسی جماعتوں کا سوال ہے انہیں بھی اس معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ صرف انتخابی فائدہ کیلئے عوامی صحت کو خطرہ میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ شکست و کامیابی سب کیلئے ہے ۔ کوئی کامیابی حاصل کرتا ہے تو ناکامی کسی کے حصے میں آتی ہے ۔ تاہم انتخابی فائدہ کیلئے کورونا کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہئے ۔ خود سیاسی قائدین اور امیدواروں کو عوام کے سامنے اپنے کردار سے مثال پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اپنی ترجیحات عوام پر ظاہر کرتے ہوئے عوامی صحت کے تئیں اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ حکومتیں ‘ عوام اور سیاسی جماعتیں اگر سنجیدہ کوششیں کریں تو انتخابات کے موسم میں بھی اس وباء کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔
