اترپردیش ‘ تقریبا 3 کروڑ نام حذف

   

Ferty9 Clinic

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا
پھر ذوق شوق دیکھ دلِ بیقرار کا
جس وقت سے ملک میں مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہوا ہے اس وقت سے ایک طرح کی افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ ملک کی بیشتر ریاستوںمیں جہاں ایس آئی آر کا عمل ہوا ہے لاکھوں کی تعداد میں ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے جا رہے ہیں۔ اس تعلق سے مختلف بہانے پیش کئے جا رہے ہیں اور ایسی وجوہات بتائی جا رہی ہیں جن سے الیکشن کمیشن کا فیلہ درست قرار دیا جاسکے ۔ چاہے بہار ہو یا پھر راجستھان ہو یا کوئی اور ریاست ہو لاکھوں کی تعداد میں ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کئے گئے ۔ اب ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میںبھی ایس آئی آر کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور جو مسودہ ووٹر لسٹ کا تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق ریاست میں جملہ دو کروڑ 89 لاکھ ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کردئے گئے ہیں۔ ریاست میں جملہ 15.44ووٹرس تھے جن کی تعداد اب ایس آئی آر کے بعد گھٹ کر 12.55 کروڑ ہوگئی ہے ۔ الیکشن کمیشن کا یہی کچھ کہنا ہے کہ کچھ ووٹرس فوت ہوگئے ہیں۔ کچھ ووٹرس اپنے گھروں پر موجود نہیں پائے گئے ہیں اورک چھ ووٹرس ملک کی دوسری ریاستوں یا شہروںکو منتقل ہوگئے ہیں۔ الیکشن کمیشن یا مرکزی حکومت کی جانب سے مسلسل یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ ایس آئی آر کا عمل کسی طرح کے نقائص سے پوری طرح پاک ہے اور کسی بھی اہل ووٹر کا نام حذف نہیں کیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوںکے کئی قائدین ایسے ہیں جنہوں نے خود اپنا اور اپنے افراد خاندان کا نام فہرست رائے دہندگان سے حذف ہوجانے کا دعوی کیا ہے ۔ اترپردیش میں کانگریس کے سینئر لیڈر گردیپ سنگھ سپل نے یہ دعوی کیا ہے کہ ان کا اور ان کے افراد خاندان کا نام فہرست سے خارج کردیا گیا ہے ۔ مسٹر سپل کانگریس کے سینئر لیڈر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ اسی طرح سے کئی دوسرے افراد نے بھی دعوی کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا عملہ ان تک نہیںپہونچا اور ان کے نام فہرست سے نکال دئے گئے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ عوامی زندگی میں سرگرم رہنے اور طویل سیاسی کیرئیر رکھنے والے سیاسی قائدین کے نام بھی اگر فہرست رائے دہندگان سے حذف کئے جا رہے ہیں تو پھر عام آدمی کے تعلق سے کیا کچھ ہو رہا ہوگا اس کا جائزہ لینا زیادہ مشکل نہیں رہ جاتا ۔ بہار میں جس وقت الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کا عمل عین اسمبلی انتخابات سے قبل شروع کیا تھا اس دوران کئی افراد ایسے تھے جنہیں الیکشن کمیشن نے مردہ قرار دیتے ہوئے ان کے نام فہرست سے خارج کردئے تھے تاہم یہ لوگ بعد میں میڈیا کے سامنے پیش ہوئے اور خود سپریم کورٹ بھی پہونچے تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ وہ زندہ ہیں۔ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایس آئی آر کا جو عمل کیا جا رہا ہے اس میں کئی طرح کی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ بات اہم ہے کہ ایس آئی آر کیلئے جو وقت دیا جا رہا ہے وہ کروڑوں رائے دہندوں کی جانچ کرنے کیلئے کافی نہیںہوسکتا ۔ انتہائی معمولی وقت میں ایس آئی ار کا عمل مکمل کرنے کا نشانہ دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بی ایل اوز یا پھر کمیشن کا دوسرا عملہ اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک طرح سے پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ اڈھاک بنیادوںپر کام کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کئی اہل اور موجود ووٹرس کے نام فہرست سے غائب ہو رہے ہیں اور انہیں دوبارہ فہرست میںشامل کرنے میں ووٹرس کو انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
یہ بات درست ہے کہ کسی نا اہل فرد کا نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیںرہنا چاہئے تاہم یہ بھی لازمی ہے کہ کسی اہل ووٹر کا نام فہرست سے خارج بھی نہ ہوجائے ۔ الیکشن کمیشن کا عملہ جس طرح سے اپنا کام کر رہا ہے وہ مناسب نہیںکہا جاسکتا ہے ۔ کئی مواقع پر اور کئی مقامات پر اس تعلق سے شکایات سامنے آئی ہیں ۔ اس طرح سے ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کے نام اگر فہرست رائے دہندگان سے خارج ہوجاتے ہیں تو یہ ایک بڑا جمہوری اور سنگین مسئلہ بن سکتا ہے ۔ اس معاملہ کو سیاسی عینک سے دیکھنے کی بجائے سنجیدگی سے جائزہ لے کر خامیوں کو دور کرنے الیکشن کمیشن کو ذمہ داری نبھانی چاہئے ۔