اترپردیش میں بی جے پی کو بڑا جھٹکا

   

Ferty9 Clinic

بدنام کرنے والوں کا احسان مند ہوں
اپنی زباں سے کچھ بھی نہ کہنا پڑا مجھے

اترپردیش میںاسمبلی انتخابات کا بگل بج چکا ہے ۔ ملک کی سب سے بڑی اور حساس ریاست میںسیاسی اتھل پتھل بھی شروع ہوچکی ہے ۔ ویسے تو بی جے پی کی روایت رہی ہے کہ انتخابات سے قبل اور انتخابی عمل کے دوران مخالف جماعتوںکے قائدین کو ورغلا کر یا لالچ دے کر یا پھر مقدمات سے خوفزدہ کرتے ہوئے پہلے تو ہراساں کرتی ہے اور پھر اپنی صفوں میں شامل کرلیتی ہے ۔ تاہم اس بار بی جے پی کو اپنی ہی روش کا شکار ہونا پڑا ہے اورا س کے ایک طاقتور وزیر سوامی پرساد موریہ اور چار ارکان اسمبلی نے عین انتخابات سے قبل پارٹی سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ ریاست میں ویسے تو کئی عوامل ہیں جو بی جے پی کیلئے مشکل پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ عوامی برہمی بھی حکومت کے خلاف پائی جاتی ہے ۔ اعلی ذات کے مختلف طبقات بھی چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے رویہ سے خوش نہیں ہیں۔ برہمن لابی بھی پارٹی اور پارٹی قیادت سے مطمئن نہیں ہے ۔ پارٹی کو 2022 میں ریاست میں اقتدار دلانے میں ریاست کے پسماندہ طبقات نے بھی اہم رول ادا کیا تھا ۔ اترپردیش کی مقامی جماعتوں بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی سے دوری اختیار کرتے ہوئے ان طبقات نے بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔ تاہم اب یہ طبقات بھی بی جے پی سے دور ہونے لگے ہیں۔ ایسے میں سوامی پرساد موریہ کی پارٹی سے علیحدگی اور اکھیلیش یادو کی قیادت والی سماجوادی پارٹی میں شمولیت بی جے پی کی مشکلات میں مزید اضافہ کا سبب ہی بنے گی ۔ چیف منسٹر کے رویہ سے اعلی ذات کے طبقات الگ خوش نہیں ہیں۔ چیف منسٹر ٹھاکر ہیں اور برہمن لابی ان کے طرز عمل سے خوش نہیں ہے ۔ برہمن لابی کو راغب کرنے کیلئے کانگریس کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس خواتین کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اکھیلیش یادو مختلف جماعتوں سے مفاہمت کرتے ہوئے اپنے راستے کو مزید آسان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں ‘ یادوبرادری اور دوسرے طبقات کو ساتھ ملانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے ۔ کئی جماعتوں سے انہوں نے اتحاد کرلیا ہے ۔
اس صورتحال میں سوامی پرساد موریہ اور چار ارکان اسمبلی کے استعفے سے بی جے پی کی مشکلات میںاضافہ ہی ہونے والا ہے ۔ سوامی پرساد موریہ غیر یادو او بی سی طبقات کے ایک طاقتور لیڈر ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی حکومت میں دبے کچلے طبقات اور پسماندہ برادریوں کو مزید دبایا جا رہا ہے ۔ ان کے الزامات بی جے پی کے انتخابی امکانات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود انہوں نے پوری سنجیدگی سے کام کیا تھا لیکن دلتوں ‘ او بی سی ‘ کسانوں ‘ بیروزگاروں اور چھوٹے تاجروں کو مسلسل ہراساں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ مستعفی ہو رہے ہیں۔ مسٹر موریہ کے انحراف سے غیر یادو او بی سی طبقات کے ووٹ سماجوادی پارٹی کی طرف جاسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں بی جے پی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ خود مسٹر موریہ کا کہنا تھا کہ ان کی علیحدگی کا بی جے پی پر کیا اثر ہوگا یہ انتخابی نتائج سے پتہ چل جائیگا ۔ یہ انحراف اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اکھیلیش یادو غیر یادو او بی سی ووٹرس کو راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے ۔ ریاست کی او بی سی آبادی میں غیر یادو او بی سی طبقات 35 فیصد ہیں جو انتخابی نتائج کیلئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان ہی طبقات کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے اکھیلیش نے راشٹریہ لوک دل سے ‘ سوہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی ‘ مہان دل جیسی جماعتوں سے اتحاد کیا تھا اور اپنے چچا شیوپال سنگھ یادو سے بھی سیاسی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ان سے بھی مفاہمت کرلی تھی ۔
سوامی پرساد موریہ اور مزید تین ارکان اسمبلی کی علیحدگی اور استعفوں سے بی جے پی کے انتخابی امکانات پر خاصا اثر پڑسکتا ہے اور سماجوادی پارٹی کی اخلاقی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ بی جے پی اس نقصان سے نمٹنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے اور کیا جواب دیتی ہے یہ اہمیت کا حامل ہوگا ۔ کچھ گوشوں کا تاثر ہے کہ ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی پوری شدت سے فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے کی کوششوں میںشدت پیدا کرسکتی ہے ۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی ہو یا دوسری جماعتیں جو مقابلہ کر رہی ہیں انہیں چوکس رہنے اور عوام کو ایسی حرکتوں سے باخبر رکھتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔