نہ پوچھ گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ بھگت
تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا
اترپردیش میں انتخابی عمل تیز ہوتا جا رہا ہے ۔ سیاسی سرگرمیوں اور انتخابی مہم میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ حالانکہ انتخابی مہم کی ریلیوں پر تحدیدات ہیں اور ورچول اجلاس زیادہ منعقد ہو رہے ہیں لیکن بی جے پی کی جانب سے ان قوانین کی بھی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ گذشتہ دنوں کیرانہ میں انتخابی مہم میں خود ملک کے وزیر داخلہ نے حصہ لیا جہاں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور کورونا قواعد کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں۔ سینکڑوں افراد نے چہروں پر ماسک نہیں لگایا تھا اور سماجی فاصلے کا تو کوئی خیال ہی نہیں رکھا گیا تھا ۔ انتخابی مہم کے دوران وزیر داخلہ نے خود سماج میں دوریوں کو فروغ دینے والے ریمارکس کئے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کیرانہ سے عوام کے نقل مقام کوا یک مسئلہ بنانے کی کوشش کی ہے حالانکہ نقل مقامی کے یہ دعوے غلط ثابت ہوئے تھے ۔ اب جبکہ انتخابات کے پہلے مرحلہ کی پولنگ کیلئے وقت قریب آتا جا رہا ہے بی جے پی کی بوکھلاہٹ میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اور خاص طور پر وزیر داخلہ سماجوادی پارٹی کے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیںاور ایسے ریمارکس کر رہے ہیں جو کم از کم ملک کے وزیر داخلہ کو نہیں کرنا چاہئے ۔ امیت شاہ نے پہلے تو جاٹ برداری کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کی حلیف راشٹریہ لوک دل کو اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی ۔ حالانکہ جس وقت انتخابی عمل کا اعلان نہیں ہوا تھا اس وقت بی جے پی کی جانب سے ایسی کوئی پہل نہیں کی گئی تھی ۔ بی جے پی کو مغربی اترپردیش میں کسانوں کی برہمی کے اندیشے ستا رہے ہیں ۔ انتخابی بگل بجنے کے بعد بی جے پی کو سیاسی صورتحال اور عوام کے موڈ کا اندازہ ہوا ہے اور اس نے آر ایل ڈی کو اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی ۔ آر ایل ڈی نے اس دعوت کو یکسر مسترد کردیا ہے اور پارٹی سربراہ جئینت چودھری نے اس کا منہ توڑ جواب بھی دیا ہے ۔ جئینت چودھری کے جواب کے بعد بی جے پی کی بوکھلاہٹ میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ وزیر داخلہ نے آج ایک بار پھر مظفر نگر کا دورہ کرتے ہوئے آر ایل ڈی کو اشارے دینے کی کوشش کی ہے ۔
امیت شاہ کا کہنا تھا کہ سماجوادی پارٹی اور راشٹریہ لوک دل کا ساتھ صرف انتخابی نتائج کے اعلان تک کا ہے ۔ اگر سماجوادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو پھر اعظم خان حکومت میں شامل ہو جائیں گے اور جئینت چودھری کو اقتدار سے باہر رہنا پڑے گا ۔ امیت شاہ نے اس طرح ایک تیر سے دو نشانہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایک تو انہوں نے جئینت چودھری کو اتحاد سے دور کرنے کی بات کہی ہے وہیں یہ بھی واضح کردیا کہ اگر سماجوادی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو اعظم خان کے خلاف مقدمات ختم ہوسکتے ہیں۔ یہ خوف بی جے پی کوا بتداء سے لاحق ہے کیونکہ اترپردیش میں اعظم خان نے بی جے پی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کرتے ہوئے دو ٹوک موقف اختیار کیا تھا ۔ کئی گوشوں کا یہی تاثر ہے کہ اعظم خان کے خلاف جتنے زیادہ مقدمات درج کئے گئے اور جو گھناؤنے الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ بی جے پی کی پراگندہ ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیںاور اعظم خان کو صرف اس لئے رسواء کرنے کی مہم چلائی گئی کیونکہ انہوں نے ملت کے مفادات پر سودا کرنے اور راست یا بالواسطہ طور پر بی جے پی کو فائدہ پہونچانے سے انکار کردیا تھا ۔ بی جے پی کے اشاروں پر ناچنے سے اعظم خان نے انکار کردیا تھا ۔ بی جے پی کو اور اس کے قائدین کو اس حقیقت کا پتہ ہے کہ اعظم خان کے خلاف جو مقدمات ہیں وہ فرضی ہیںاور یہ صرف سیاسی اختلاف اور دشمنی میں دائر کئے گئے مقدمات ہیں اور بی جے پی اگر اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو اس کے اوچھے ہتھکنڈے بھی ختم ہوجائیں گے ۔
یہ الگ بات ہے کہ انتخابی عمل کے دوران سیاسی جماعتوں میں لمحہ آخر تک بھی اتحاد یا مفاہمت کے امکانات برقرار رہتے ہیں۔ تاہم اترپردیش میں انتخابی بگل بجنے سے قبل ہی اکھیلیش یادو نے کئی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے اپنا موقف واضح کردیا تھا ۔ ایک طرح سے اکھیلیش یادو نے بی جے پی کیلئے بہت کم امکانات باقی رکھے تھے اور بی جے پی کو اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب انتخابی بگل بج چکا تھا ۔ شیڈول جاری ہوچکا تھا ۔ خود بی جے پی حکومت کے وزراء اور ارکان اسمبلی نے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے ۔ ایسے میں بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے ہی اتحاد کرچکی آر ایل ڈی کو رجھانے کی کوشش کر رہی ہے اور اقتدار سے باہر رہنے کے اندیشوں کا شکار کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے ساتھ اس کے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔
روزگار کا مسئلہ اور بی جے پی
بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ میں اپنے سیاسی اثر و رسوخ میںاضافہ کیلئے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہے ۔ بی جے پی کسی بھی مسئلہ کا سیاسی استحصال کرتے ہوئے فائدہ حاصل کرنے کی حتی المقدور کوشش کر رہی ہے اور اس کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے گنوانے کو تیار نہیں ہے ۔ بی جے پی نے اب تلنگانہ میں نو جوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے مطالبہ پر احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ حیدرآباد میں پارٹی ملین مارچ بھی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ روزگار کے مسئلہ پر بی جے پی کی یہ دوہری پالیسی ہے ۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی آج کی بنیادی ضرورت ہے اور اس سے کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ تلنگانہ میں بھی لاکھوں نوجوان بیروزگار ہیں اور انہیں بھی روزگار فراہم کیا جانا چاہئے ۔ تاہم بی جے پی قائدین کو سب سے پہلے اپنے وزیر اعظم سے سوال کرنا چاہئے کہ سالانہ دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کا ان کا وعدہ کیوں پورا نہیں ہوا ہے ۔ جو وعدہ کیا گیا تھا اس کے مطابق تو مرکزی حکومت کو اب تک 14 کروڑ روزگار فراہم کرنے چاہئے تھے لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے کیونکہ کروڑوں روزگار ختم ہوگئے ہیں۔ بی جے پی تلنگانہ یونٹ کے قائدین کو پہلے اس پر مودی حکومت سے سوال کرنا چاہئے اگر وہ واقعی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے مسئلہ پر سنجیدہ ہے ۔
