لکھنو : اترپردیش حکومت ، اترپردیش اششکیہ عربی فارسی ونیاماولی 2016 میں ترمیم کے ساتھ ایک تجویز لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے تاکہ غیر منظم اور غیرمسلمہ مدارس کے طلباء کو جدید تعلیم تک رسائی فراہم کی جاسکے۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود دھرم پال سنگھ نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہیکہ وہ قانون میں ترمیم کی تجویز پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا مقصد یہ ہیکہ اقلیتی طبقے کے طلبہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس سمیت جدید تعلیم کے ذریعے قومی دھارے میں شامل ہوسکیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس میں پیشہ ورانہ تربیت اور کمپیوٹر کی تعلیم کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے۔ اتر پردیش میں 16,513 سرکاری فنڈ سے باقاعدہ مدارس اور 8,449 غیرتسلیم شدہ یا غیرمنظم مدارس ہیں۔
دریں اثنا یوپی مدرسہ بورڈکے چیرپرسن افتخار احمد جاوید نے ریاستی حکومت کو ایک تحریری سوال بھیجا ہے، جس میں پوچھا گیا ہے کہ غیر تسلیم شدہ مدارس کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ان کے مالکان بورڈ پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ انہیں حکومت کی پہچان دی جائے۔ غیر تسلیم شدہ مدرسہ مالکان توقع کررہے تھے کہ حکومتی سروے کے بعد ان سب کو بورڈ سے توثیق اور الحاق دے دیا جائے گا، لیکن اب وہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔ غیر تسلیم شدہ مدرسے حکومتی اصولوں کی پیروی کیوں کریں گے اگر ان کا الحاق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر تسلیم شدہ مدرسہ مالکان نے کئی بار اظہارکیا ہے کہ وہ مذہبی تعلیمات کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اور سائنس بھی متعارف کروانا چاہتے ہیں لیکن انہیں حکومت کی مدد کی ضرورت ہے۔ دریں اثنا وزیر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سکریٹری مونیکا ایس گرگ نے کہا وزیر سے موصولہ رہنما خطوط پر عمل کیا جائے گا اور اقلیتی برادری کی ہمہ جہت ترقی سے متعلق اسکیموں کو متحرک اور زیادہ موثر بنانے کے لیے کام کیا جائے گا۔