ٹھوکریں ہی سنبھال سکتی ہیں
یوں کوئی راہ پر نہیں آتا
اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کی زیر قیادت بی جے پی حکومت عوام اور خاص طور پر مسلمانوں کے قانونی اور دستوری حقوق سلب کرنے پر آمادہ ہوچکی ہے ۔ عوام کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو احتجاج سے دور رکھنے کیلئے ہر غیرقانونی طرحقہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ ان کے خلاف طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ان کے خلاف فرضی اور جعلی مقدمات کا اندراج تو عام بات ہے ۔ انہیں جیلوں کو بھیجنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ۔ انہیں سماج میں رسواء کرنے اور ان کے ساتھ مسلسل ناانصافیاں کرنے کی روایت بھی بن چکی ہے ۔ خاص طور پر جب مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو حکومت کو یہ برداشت نہیں ہوتا ۔ وہ کسی بھی قیمت پر احتجاج کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کرتی ہے اور اس احتجاج میں حصہ لینے والے مسلمانوں کو طاقت کے بل پر خوفزدہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی ۔ اس وقت سارے ملک میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کیا تھا اور شاہین باغ نے ایک تاریخ رقم کی تھی اس وقت اترپردیش کے بھی کئی شہروں میں احتجاج کئے گئے تھے ۔ مسلمانوں نے حکومت کے فیصلے کے خلاف سخت ناراضگی اور برہمی کا اظہار کیا تھا اور سڑکوں پر اتر آئے تھے ۔ اس احتجاج کے دوران عوامی املاک کو جو نقصان پہونچا تھا اس کی پابجائی کیلئے حکومت کی جانب سے احتجاجیوں کو نوٹسیں جاری کی گئیں ۔ کچھ افراد سے رقومات بھی وصول کی گئیں لیکن جب عدالتوں نے اس معاملے میں مداخلت کی اور حکومت کی سرزنش کی گئی تو پھر یہ سلسلہ روکا گیا ۔ حکومت اپنے عزائم اور منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہیں پہونچا پائی ۔ اسی طرح جب کسان تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا تھا اس احتجاج کو بھی کچلنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ کسانوں کو بدنام کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ کسانوں کے خلاف بھی طاقت کا استعمال ہوا لیکن وہ خوفزدہ نہیں ہوئے ۔ تب کہیں جا کر حکومت کو ہی گھٹنے ٹیکنے پڑے اور مرکزی حکومت تین متنازعہ زرعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی ۔ اب ایک بار پھر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔
شان رسالت ؐ میں بی جے پی قائدین کی گستاخیوں کے خلاف جب مسلمانوں نے غم و غصہ کا اظہار کیا اور احتجاج منظم کیا تو انہیں روکنے کیلئے نئے حربے شروع کردئے گئے ہیں۔ خاص طور پر ہنومان جینتی اور رام نومی کے جلوسوں کے دوران تشدد برپا کرتے ہوئے بعد میں مسلمانوں کی املاک کو تباہ کیا گیا ۔ ان کی دوکانات اور مکانات پر بلڈوزر چلاتے ہوئے انہیں زمین بوس کردیا گیا ۔ اب جبکہ شان رسالت ؐ میں گستاخی کے خلاف مسلمانوں نے احتجاج کیا تو سہارنپور کی پولیس یہ برداشت نہیں کرسکی ۔ گستاخ قائدین کو گرفتار کرنے کی بجائے پرامن احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ آج سارے سہارنپور میں خوف کا ماحول پیدا کردیا گیا اور 64 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اس کے علاوہ چند احتجاجی مسلمانوں کے مکانات کو منہدم کردیا گیا ۔ یہاں بھی بلڈوزر چلاتے ہوئے مکانات کو زمین بوس کردیا گیا ۔ حکام کا دعوی ہے کہ یہ مکانات غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے تھے ۔ تاہم یہ دعوی مضحکہ خیز ہی ہے اور اسے ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اصل مقصد مسلمانوں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں احتجاج کے راستے سے روکنا ہی ہے ۔ اگر واقعی منہدم کردہ مکانات غیر قانونی تھے تو پھر ذمہ دار بلدی عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے کیونکہ اس کیلئے وہ بھی جواب دہ ہیں۔ برسوں سے انہوں نے خاموشی کیوں اختیار کی تھی ؟ ۔ تاہم ایسا نہیںہے بلکہ مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے کے مقصد سے یہ کارستانی کی گئی ہے ۔
آدتیہ ناتھ کی زیر قیادت یو پی حکومت اور ملک کی دوسری ریاستوں میں قائم بی جے پی کی حکومتیں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے ہر غیر قانونی طریقہ اختیار کر رہی ہیں۔ انہیں قوانین اور اصولوں کی بھی کوئی فکر نہیں ہے ۔ وہ مسلم دشمنی میں خود قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔ بلڈوزر کو خوف کی سیاست کی علامت بنادیا گیا ہے اور اسے عہدیدار اور سیاسی قائدین اپنی من مانی سے جہاں چاہے اور جب چاہے استعمال کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اس سے نمٹنے کے قانونی طریقے اختیار کرنے ہونگے ۔ حکام کی کارروائی کو عدالتوں میں چیلنج کیا جانا چاہئے ۔ مکانات کے انہدام پر حقوق انسانی کمیشن سے رجوع ہوا جاسکتا ہے ۔ عہدیداروں کو قانونی کشاکش کا شکار کرتے ہوئے ان کی ترقیاں روکی جاسکتی ہیں۔ جوابی قانونی راستوں کے ذریعہ ہی عہدیداروں کو غیرقانونی کاموں سے روکا جاسکتا ہے ۔
مانسون سے قبل وبائی امراض
تلنگانہ میں مانسون کی آمد آمد ہے ۔ کسی بھی وقت بارشوں کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ حالانکہ اس بار مانسون کی آمد میں قدرے تاخیر ہوئی ہے لیکن بارش معمول کے مطابق یا اس سے زیادہ ہونے کی پیش قیاسی کی جا رہی ہے ۔ مانسون کی آمد سے قبل کچھ وبائی امراض پھوٹنے کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں۔ ہیضہ اور ڈینگو سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور ان عوارض کا شکار مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ عہدیداروں کو اس تعلق سے فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔حالات کے بگڑنے سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے عوام کو ان عوارض سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ بارشوں کا آغاز کبھی بھی ہوسکتا ہے ایسے میں صفائی کے اقدامات پر توجہ دی جانی چاہئے ۔ پانی کی نکاسی کے اقدامات کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ نگہداشت صحت کے مراکز کو مستحکم کرتے ہوئے وہاں ضروری ادویات کا ذخیرہ رکھا جانا چاہئے ۔ مچھروں کی افزائش پر قابو پانے کی ضرورت ہے اور جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کا سلسلہ بھی فوری طور پر شروع کیا جانا چاہئے ۔
