اترکھنڈ میں بھی بی جے پی کو مشکلات

   

Ferty9 Clinic

اترپردیش اور پنجاب کے علاوہ منی پور اور گوا کے ساتھ اترکھنڈ میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ پانچوں ریاستوں کیلئے الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کردیا ہے اور جہاں پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے جانے ہیں وہاں کیلئے اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ تمام جماعتیں ان ریاستوں میں اپنی اپنی انتخابی بساط بچھائے مصروف ہوچکی ہیں۔ سیاسی قائدین کے انحراف اور پارٹیاں بدلنے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے ۔ انتخابات کا سامنا کرنے والی تقریبا ہر ریاست میں صورتحال ایسی ہوگئی ہے جہاں ہر جماعت کو انحراف کا سامنا ہے ۔ اترپردیش میں بڑے پیمانے پر انحراف ہوا اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ پنجاب میں بھی اسی طرح کے ایک دو واقعات ہوئے ہیں ۔ خود چیف منسٹر چرن جیت سنگھ چنی کے بھائی کانگریس کا ٹکٹ نہ ملنے سے ناراض ہیں اور انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر مقابلہ کا اعلان کردیا ہے ۔ گوا میں ترنمول کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے کئی قائدین یکے بعد دیگرے پارٹی چھوڑ کر سابقہ جماعتوں میں یا نئی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر رہی ہے۔ تقریبا یہی صورتحال اترکھنڈ میں ہے جہاں بی جے پی کیلئے سروے کے مطابق اپنا اقتدار بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ اترکھنڈ میں ضمنی انتخابات چند ماہ قبل ہوئے تھے جہاں کانگریس نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی اور بی جے پی کو چار حلقوں میںشکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ ریاست میں خود بی جے پی کی صفوں میں استحکام نہیں ہے کیونکہ یہاں اب تک دو چیف منسٹرس تبدیل کئے جاچکے ہیں۔ ایک وزیر کو بھی بی جے پی نے برطرف کردیا ہے اور ان پر مخالف پارٹی سرگرمیوں کا الزآم عائد کیا گیا ہے ۔ کچھ قائدین اپنی مرضی سے بھی بی جے پی چھوڑتے ہوئے کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں ۔ انہیں اپنے سیاسی مستقبل کی فکر ہے کیونکہ انہیں بھی اندیشہ ہے کہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوسکتی ہے ۔ بی جے پی کے چیف منسٹر بھی عوام میں مقبول نہیں ہیں اور سابقہ چیف منسٹرس کے ریمارکس بھی عوام کے ذہنوں میں ہیں جن کی وجہ سے انہیں تبدیل کرنے کیلئے پارٹی کو مجبور ہونا پڑا تھا ۔
ریاست کے عوام نے پانچ سال قبل اترپردیش کے ساتھ بی جے پی کو اقتدار حوالے کیا تھا ۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران ریاست میں بی جے پی حکومت کی کارکردگی عوام کیلئے مایوس کن رہی ہے ۔ کوئی ترقیاتی کام نہیں کئے گئے ۔ جو سانحات پیش آئے ہیں ان کے دوران بھی حکومت کی جانب سے عوام کو راحت اور ہسولیات فراہم کرنے کے اقدامات انتہائی ناکافی رہے ہیں۔ چیف منسٹروں کی کارکردگی سے خود بی جے پی اور اس کے قائدین مطمئن نہیں ہو پائے تھے جس کی وجہ سے انہیں تبدیل کرنا پڑا ۔ ریاست میں اب تک دو چیف منسٹرس کو تبدیل کیا گیا ہے اور موجودہ چیف منسٹر قطار میں تیسرے ہیں۔ حکومت کی ناقص کارکردگی پر عوام کی ناراضگی کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ ضمنی انتخابات میں پارٹی کو کراری شکست ہوئی تھی ۔ ایک لوک سبھا حلقہ اور چار اسمبلی حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوا تھا اور ان پر بی جے پی کا قبضہ تھا ۔ تاہم کانگریس نے ان تمام حلقہ جات کو بی جے پی سے چھین لیا ۔ ضمنی انتخابات کے نتائج نے ماضی میں کانگریس سے ترک تعلق کرتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے قائدین کو بھی بے چین کردیا ہے اور وہ ایک بار پھر کانگریس میں واپسی کرنا چاہتے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے تاہم باغیوں کی پارٹی میں واپسی پر کوئی گرین سگنل نہیں دیا ہے اور اس کا کہنا ہے پہلے سبھی کے تعلق سے غور و خوض کیا جائیگا کیونکہ یہی وہ قائدین ہیں جن کی وجہ سے ریاست کو اور پارٹی کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔
بی جے پی کو جہاں اترپردیش میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے وہی صورتحال اترکھنڈ میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔ خاص طور پر کچھ داخلی سرویز میں بی جے پی کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ ریاست میں اسے اقتدار بچانا آسان نہیں رہے گا اور عوام میں حکومت کے خلاف لہر پائی جاتی ہے ۔ یہ صورتحال بی جے پی کیلئے صبر آزما کہی جا رہی ہے کیونکہ اس کے خود کئی قائدین ایک دوسرے سے مطمئن نہیںہیں اور وہ ایک دوسرے کے خلاف ریمارکس سے بھی باز نہیں آ رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اس صورتحال میں کس حد تک عوام کی تائید حاصل کرتے ہوئے حکومت مخالف جذبات کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔