ملین مارچ کو کمزور کرنے متوازی احتجاج ، صدر میناریٹی ڈپارٹمنٹ عبداللہ سہیل کا بیان
حیدرآباد۔ 2 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کے خلاف صدر مجلس اسد اویسی کے ریمارکس کی مذمت کی ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل، صدر میناریٹی ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسد اویسی کا کام نہیں کہ وہ پی سی سی صدر کو اس بات کا مشورہ دیں کہ وہ کیا کہیں اور متنازعہ شہریت قانون کے خلاف کس طرح احتجاج کریں۔ کانگریس ایک قومی پارٹی ہے اور مسائل پر واضح موقف رکھتی ہے۔ کانگریس کے قائدین احتجاج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسد اویسی چیف منسٹر کے سی آر کے برانڈ امبیڈسیڈر کے رول میں عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں لیکن حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے انہیں کمشنر پولیس انجنی کمار کے ترجمان کا رول ادا نہیں کرنا چاہئے۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ کانگریس نے نظام آباد کے جلسے میں شرکت کے لیے اسد اویسی کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے درست فیصلہ کیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اسد اویسی مخالف شہریت قانون احتجاج کو تلنگانہ میں سبوتاج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے تمام مذہبی قائدین کو چیف منسٹر کے سی آر کے آگے سرنڈر کردیا اور اس بات کا بھروسہ دلایا کہ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے مرکز کی بی جے پی حکومت ناراض ہوگی۔ عبداللہ سہیل نے سوال کیا کہ نظام آباد کے جلسے میں کے سی آر اور کے ٹی آر کوکمیوں مدعو نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے ٹی آر ایس کے ساتھ مل کر مشترکہ احتجاج کے بارے میں بھی سوال کیا۔ چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد اسد اویسی نے کہا تھا کہ کے سی آر شہریت قانون اور این آر سی کے بارے میں اندرون دو یوم اہم اعلان کریں گے۔ لیکن ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود اس مسئلہ پر خاموش ہیں جبکہ کے ٹی راما رائو متضاد اور گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کانگریس صدر کو نشانہ بنانے کے بجائے اویسی کو کے سی آر کی خاموشی پر سوال کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 4 جنوری کو ملین مارچ کے اعلان کے بعد اسد اویسی دوسری روٹ پر متوازی احتجاج منظم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ عوام میں الجھن پیدا کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو کمزور کیا جائے۔ مجلس کے صدر بی جے پی حکومت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔