لکھیم پور کھیری واقعہ کے سلسلہ میں اب فارنسک رپورٹ میں توثیق ہوگئی ہے کہ مرکزی وزیر اجئے مشرا کے فرزند آشیش مشرا کی ریوالور سے فائرنگ کی گئی تھی ۔ بی جے پی اور اس کے قائدین کی جانب سے لکھیم پور کھیری واقعہ کے بعد سے مسلسل یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ جس وقت لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو روندا گیا تھا اس وقت آشیش مشرا مقام واقعہ پر نہیں تھے بلکہ وہ کسی اکھاڑہ یا دنگل میں تھے ۔ خود آشیش مشرا اور ان کے والد مرکزی وزیر اجئے مشرا بھی یہی دعوی کر رہے تھے ۔ زر خرید میڈیا میں بھی یہی دعوی کیا جا رہا تھا کہ آشیش مشرا اس واقعہ کے وقت و ہاں موجود نہیں تھے ۔ تاہم ایک فارنسک لیباریٹری کی رپورٹ میں توثیق ہوچکی ہے کہ آشیش مشرا کی ریوالور سے گولی چلائی گئی تھی ۔ لکھیم پور کھیری میں اس واقعہ کے عینی شاہدین اور متاثرین کے رشتہ داروں نے ادعا کیا تھا کہ آشیش مشرا نے ان پر گولیاں چلائی گئی تھیں۔ اب فارنسک رپورٹ نے بھی توثیق کردی ہے کہ ان کی ہی ریوالور سے فائرنگ کی گئی تھی ۔ ایسے میں اب یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو روندنے کے واقعہ میں مرکزی وزیر کے فرزند ہی ذمہ دار ہیں۔ اس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا اس وقت سے اپوزیشن جماعتوں اور دوسروں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ اجئے کمار مشرا کو مرکزی کابینہ سے علیحدہ کردیا جائے ۔بی جے پی نے ایسے تمام مطالبات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ جب تک اجئے کمار مشرا کے اس واقعہ میں رول سامنے نہیں آجاتا اس وقت تک انہیں کابینہ سے علیحدہ نہیں کیا جائیگا ۔ اب جبکہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ آشیش مشرا کی ریوالور سے فائرنگ کی گئی تھی اجئے کمار مشرا کی مرکزی کابینہ سے علیحدگی ضروری ہوگئی ہے تاکہ آئندہ کی جو تحقیقات ہیں ان کو غیر جانبدارانہ انداز میں آگے بڑھایا جاسکے اور مرکزی وزیر اپنے عہدہ کا بیجا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات پر اثر انداز ہونے نہ پائیں۔ بی جے پی نے ابھی اس مسئلہ پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے حالانکہ اسے اس پر فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب بھی بی جے پی کی جانب سے کوئی نہ کوئی عذر پیش کرنے کی ہی کوشش کی جائے گی ۔
لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو روندنے کا جو معاملہ تھا اس میں اب تک کی تحقیقات بھی غیر مطمئن رہی ہیں۔ خود ملک کی سپریم کورٹ نے بھی اب تک کی تحقیقات پر عدم طمانیت کا اظہار کیا ہے اور ایک سبکدوش ہائیکورٹ جج کے ذریعہ تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے ۔ اس طرح سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اترپردیش میں اس سارے معاملے کی تحقیقات اطمینان بخش طریقے سے اور غیر جانبدارانہ انداز میں نہیں ہو رہی ہے ۔ اجئے کمار مشرا مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ ہی ہیں۔ ملک کی پولیس پر ان کا اثر رہتا ہے ۔ وہ تحقیقات پر اثر انداز ہو رہے ہیں اس طرح کے الزامات بھی کئی گوشوں سے عائد کئے گئے ہیں۔ وہ اپنے فرزند کو بچانے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے اور یہ اندیشے بھی بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ وہ ثبوتوں اور شواہد پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ وہ اپنے وزارتی عہدہ کا بیجا فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ویسے بھی وہ علاقہ کے طاقتور قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کسی وزارتی عہدہ کے بغیر بھی تحقیقات پرا ور گواہوں پر اثرا نداز ہوسکتے ہیں۔ وزارتی عہدہ کے ساتھ تو ایسے اندیشوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔ تاہم اب یہ عذر لنگ پیش کیا جا رہا ہے کہ فائرنگ ضرور آشیش مشرا کی ریوالور سے ہوئی تھی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ لکھیم پوری واقعہ کے دن ہی فائرنگ ہوئی تھی ۔ اس طرح سے تحقیقات میں ایک اور طریقے سے رکاوٹ پیدا کرنے اور اس کا رخ موڑنے کی کششیں تیز ہو گئی ہیں۔ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہنے کے اندیشے ہیں۔
سپریم کورٹ کی مسلسل پھٹکار اور سرزنش کے باوجود اترپردیش میں اس واقعہ کی تحقیقات مناسب ڈھنگ سے نہیں کی جا رہی ہیں۔ عینی شاہدین کے بیانات قلمبند نہیں کئے جا رہے ہیں۔ کسی نہ کسی انداز میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے ۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ اجئے کمار مشرا کو مرکزی کابینہ سے علیحدہ کیا جائے اور سکبدوش جج کے ذریعہ جو تحقیقات ہونگی ان کو غیر جانبدارانہ انداز میں آگے بڑھایا جائے ۔ انصاف رسانی کے تقاضوں میں اگر سرکاری عہدوں پر فائز افراد ہی رکاوٹ بننے لگیں اور ہٹ دھرمی دکھائیں تو اس سے عام عوام پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے ۔
