احتجاجیوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی : حکومت دہلی

,

   

مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کو استثنی حاصل نہیں رہے گا ۔ حکومت نے میمو جاری کیا ۔ ہم طلباء کے ساتھ ہیں ‘ دہلی کے وزیر داخلہ کا دعوی

نئی دہلی 30 جولائی ( ایجنسیز ) حکومت دہلی نے آج کہا کہ حالیہ منعقدہ نیٹ پرچہ سوالات افشاء معاملہ میں ہوئے احتجاج کے سلسلہ میں گرفتار کردہ افراد کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ احتجاجیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا مرکزی حکومت نے سی جے پی کو تیقن دیا تھا جس نے یہ احتجاج منعقد کیا تھا ۔ تاہم حکومت نے یہ واضح کردیا کہ قانونی کارروائی نہ کرنے کا تیقن ان افراد کیلئے نہیں ہے جن کا مجرمانہ پس منظر رہے گا ۔ یہ شرط سپریم کورٹ کے 28 جولائی کو جاری حکمنامہ کی مطابقت میں عائد کی گئی ہے ۔ حکومت دہلی کی جانب سے جمعرات کی شام جاری کردہ ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے 29 جولائی کی شام تک اس احتجاج کے سلسلہ میں جملہ 13 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ حکومت سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے اب تمام گرفتاریوں اور حراست کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا اور احتجاجیوں کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ اس مسئلہ کو اب بند کیا جائے گا اور گرفتار شدگان کی رہائی کا عمل شروع ہوگا ۔ دہلی کے وزیر داخلہ مسٹر آشیش سود نے بتایا کہ ہم طلباء کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک مثبت سوچ کے ساتھ حکومت کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت نے طلباء اور احتجاجیوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کیا ہے ۔ تاہم اگر کوئی غیر سماجی عناصر یا مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد نے اگر طلباء کے احتجاج کو تشدد پھیلانے کے خلاف استعمال کیا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ دہلی میں 20 جولائی کو پیش آئے واقعات کے بعد احتجاج میں شدت پیدا ہوئی تھی ۔ احتجاجیوں کا سی جے پی کے چلو سنسد مارچ کے دوران پولیس کے ساتھ ٹکراؤ ہوا تھا ۔ اس کے بعد پولیس نے گرفتاریاں کرتے ہوئے کچھ مقدمات درج کئے تھے اور اس سلسلہ میں سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیا گیا تھا ۔ چونکہ پولیس کارروائیوں پر عوامی برہمی میں اضافہ ہو رہا تھا اور پیلٹ گن کے استعمال تنقید ہو رہی تھی اس لئے حکومت نے سی جے پی کے مطالبات کو قبول کرلیا تھا ۔ وزیر تعلیم کی حیثیت سے دھرمیندر پردھان نے استعفی پیش کردیا تھا اور احتجاجیوں کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔