بلدیہ کی جانبدارانہ کارروائی سے غریبوں کو مشکلات، کانگریس قائد محمد ماجد خان کا الزام
نظام آباد : ٹی آرایس اور مجلس اتحاد المسلمین کی ملی بھگت سے ڈی 54 کنال احمد پورہ کالونی میں انہدامی کارروائی کی گئی ۔ اگر بلدیہ کے عہدیدار D54 کنال کی صفائی کیلئے غیر جانبدار ہوتے تو کنال کے آغاز یا اختتامی پوائنٹ سے کارروائی کی جاتی درمیانی حصہ سے انہدامی کارروائی کا کیا جواز ہے، محمد ماجد خان ٹی پی سی سی سکریٹری کی قیادت میں ڈی 54 کنال پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا گیا ایک گھنٹہ تک جاری احتجاج کے دوران ٹی آرایس مردہ باد ، مجلس اتحاد المسلمین مردہ باد کے نعرہ بلند کئے گئے محمد ماجد خان ٹی پی سی سی سکریٹری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں جدید ٹکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اس کنال کی صفائی کی جاسکتی تھی لیکن غریبوں کے مکانات کو منہدم کردیا گیا بیت الخلاء منہدم کردئیے جانے سے غریبوں کو حاجت پوری کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بالخصوص خواتین کو ناقابل بیان مشکلات ہورہی ہے جس کیلئے ٹی آرایس اور ایم آئی ایم کے نا اہل قائدین ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں اقلیتی علاقوں کے غریب خوشحال زندگی بسر کرتے تھے انہیں کبھی پریشان نہیں کیا جاتا تھا لیکن اسمبلی انتخابات میں عوام نے ٹی آرایس کو اور بلدیہ انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین کو ووٹ دیا جس کا خمیازہ آج بھگتنا پڑرہا ہے ۔ محمد ماجد خان نے انتباہ دیا کہ ڈی 54 کنال کے غریب مکینوںکو متبادل جگہ یا ڈبل بیڈ روم مکانات فراہم کئے بغیر انہدامی کارروائی کی جانے کی صورت میں کانگریس قائدین خاموش نہیں رہیں گے۔۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی بھی مقام پر انہدامی کارروائی سے قبل بلدیہ کے ایجنڈہ میں منظوری لازمی ہوتی ہے اس وقت مجلس اتحاد المسلمین کے کارپوریٹرس کیا جہالت کا شکار ہوگئے تھے کیا انہیں اس انہدامی کارروائی سے متعلق معلوم نہیں تھا یا پھر جان بوجھ کر یہ کارروائی کی جارہی ہے اس احتجاج میں کانگریسی قائدین محمد آصف ، سید اصغر علی منا ، محمد نور ، شکیل احمد ، شیخ ذاکر ، حمید خان ، محمد مجاہد خان ، معین یونس ، محمد مصیب ، خلیل خان کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد نے حصہ لیتے ہوئے بلدیہ کی انہدامی کارروائی کیخلاف شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کو امداد ، ڈبل بیڈ روم مکانات منظور کرنے کا مطالبہ کیا ۔