احیائے مذاہب، اتحاد، انتشار اور تصادم:ایک دستاویز، ایک پہل

   

نئی دہلی 26جولائی(سیاست ڈاٹ کام) مسلم ملکوں میں اقامت دین اور ہندستان میں ہندو راشٹر کے قیام کی مبینہ تحریکوں اور سیکولرازم اور لبرل ازم کے فلسفوں کے انسانی رشتوں پر ابتک جو نتائج مرتب ہوئے ہیں اُن کا سہ ماہی ہندوستانی اردو جریدے ’اثبات‘ کے خصوصی شمارے احیائے مذاہب: اتحاد، انتشار اور تصادم میں بالواسطہ مفصل جائزہ لیا گیا ہے ۔ تین ضخیم جلدوں پر مشتمل اس خصوصی شمارے میں بظاہر روئے سخن ملت اسلامیہ کی طرف ہے اور مرتب اشعر نجمی نے جو رسالے کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں، ایک سے زیادہ مضامین اور دیگر چیزوں کا کمال حکمت سے انتخاب عمل میں لا کر اسے ایک ایسے دستاویز میں بدل دیا ہے جسے حالیہ عام انتخابات کے نتائج کے بعد مسلمانوں کیلئے اپنے محاسبے اور بین فرقہ ہم آہنگی کے رخ پر صفر سے شروع ہونے والی تیاری کی جانب پہل قرار دیا جا سکتا ہے۔