اداکار وجئے کو راہول گاندھی کی تائید!

   

ہیں دلیلیں ترے خلاف مگر
سوچتا ہوں تری حمایت میں
ٹاملناڈو کی سیاست میں ادکار سے سیاست دان بننے والے وجئے کی فلم کی ریلیز کے مسئلہ پر شدت پیدا ہونے لگی ہے ۔ اداکار وجئے کی فلم کی ریلیز کئی وجوہات کی بناء پر تاخیر کا شکار ہونے لگی ہے ۔ اس فلم کو سرٹیفیکٹ کی اجرائی کیلئے سنسر بورڈ سے تنازعہ ہوا تھا ۔ سنسر بورڈ نے فلم کے مواو پر اعتراض جتایا تھا ۔ تاہم عدالت کی ہدایت کے بعد اس فلم کو سرٹیفیکٹ جاری کیا گیا ۔ پھرا س کی ریلیز کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوگیا ہے اور یہ مسئلہ بھی عدالت تک جا پہونچا ہے ۔ عدالت میں فلم کی ریلیز کے مسئلہ پر 19 جنوری کو سماعت ہونے والی ہے ۔ اس فلم کے مواد اور دیگر تنازعات کی وجہ سے یہ محض ایک فلم کی رلیز نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا ہے ۔ ٹاملناڈو کی سیاست ویسے بھی فلموں سے متاثر ہی رہی ہے اور اسی وجہ سے وجئے کی فلم کا مسئلہ بھی سیاسی رنگ اختیار کرنے لگا ہے ۔ وجئے خود ٹاملناڈو کے ایک بڑے اسٹار ہیں اور انہوں نے ٹاملناڈو میں نئی سیاسی پارٹی بھی قائم کی تھی ۔ اس وجہ سے بھی یہ مسئلہ سیاسی رنگ اختیار کرگیا ہے ۔ تاہم آج اس میں ایک دلچسپ موڑ دیکھنے میں آیا ہے جب کانگریس لیڈر و قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے وجئے کی حمات والا بیان جاری کیا ہے ۔ گانہوں نے وجئے کی فلم کی ریلیز روکے جانے کو ٹامل کلچر و ثقافت پر حملہ قرار دیا ہے ۔ راہول گاندھی کے بیان نے اس مسئلہ کو اور بھی گرما دیا ہے اور ٹاملناڈو کی سیاست میں کئی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ راہول گاندھی کا یہ بیان کئی طرح سے دیکھا جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی نے یہ بیان اس کے باوجود دیا ہے کہ ان کی پارٹی ٹاملناڈو میں برسر اقتدار ڈی ایم کے سے اتحاد رکھتی ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کی مستحکم حلیف سمجھی جاتی ہیں۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہوزیر اعظم نریندر مودی ٹاملناڈو کے عوام کی آواز کو دبانے میں کامیاب نہیںہونگے ۔ اس بیان سے کئی گوشے کئی طرح کے معنی نکال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے بھی فلم کی ریلیز میں رکاوٹوں کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ فلموں کو سیاسی مسائل کی وجہ نہیں بنایا جانا چاہئے ۔ تاہم زیادہ سیاسی اہمیت راہول گاندھی کے بیان کو دی جانے لگی ہے ۔
یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ راہول گاندھی نے وجئے کی تائید والا بیان دیتے ہوئے یہ اشارہ دیا ہے کہ ان کی پارٹی مستقبل میں وجئے کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریز نہیں کرے گی ۔ وجئے کا جہاں تک سوال ہے تو وہ لگاتار ٹاملناڈو حکومت کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود راہول گاندھی کی جانب سے ان کی فلم کی تائید میں بیان کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ راہول گاندھی نے وجئے کی تائید کرتے ہوئے مستقبل میں سیاسی اتحاد کا اشارہ ایک طرف دیا ہے تو دوسری طرف بی جے پی سے وجئے کو دور رکھنے کی حکمت عملی بھی پیش نظر رکھی ہے ۔ گذشتہ دنوں سے بی جے پی کی جانب سے یہ اشارے دئے جا رہے تھے کہ وجئے کی پارٹی ٹی وی کے کے ساتھ اتحاد کے امکانات تلاش کئے جائیں۔ وجئے کو بی جے پی کے ساتھ ملانے کی کوششیں کی جائیں۔ بی جے پی نے آندھرا پردیش میں بھی اداکار پون کلیان کی خدمات حاصل کی تھیں۔ پون کلیان کی پارٹی سے اتحاد کیا تھا اور پھر آندھرا پردیش میں تلگودیشم کے ساتھ مل کر حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ بی جے پی جنوبی ہند میں فلمی ستاروں کے حلقہ اثر سے واقف ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہے ۔ آندھرا پردیش میں تجربہ کامیاب رہنے کے بعد وہ ٹاملناڈو میں وجئے سے اتحاد کی خواہش رکھتی ہے اور اس کیلئے ٹاملناڈو بی جے پی کے قائدین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ کوششیں شروع کردیں اور کسی بھی طرح سے وجئے کو بی جے پی سے قریب لانے کی کوشش کریں۔ بی جے پی کو ٹاملناڈو میں وجئے کی مقبولیت اور حلقہ اثر کا بخوبی اندازہ ہے ۔
کہا جا رہا ہے کہ راہول گاندھی نے یہ بیان دیتے ہوئے بی جے پی کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ راہول گاندھی چاہتے ہیں کہ وجئے کیلئے کانگریس سے اتحاد کا دروازہ کھلا رہے ۔ ڈی ایم کے سے اتحاد کی وجہ سے یہ دروازہ بند نہ ہونے پائے ۔ کانگریس اگر اپنے دروازے کھلے رکھتی ہے تو وجئے بی جے پی سے قربت اختیار کرنے اور اس کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریز کرسکتے ہیں۔ ٹاملناڈو کی سیاست ایک فلم اور فلم اسٹار کے گرد گھوم رہی ہے اور سیاسی جماعتیں اپنی چالیں چلنے میں مصروف ہوگئی ہیں۔