ادھو استعفیٰ نہیں دیتے تو راحت دے سکتے تھے: چیف جسٹس

,

   

مہاراشٹرا میں شنڈے حکومت کو راحت، معاملہ7رکنی وسیع تر بنچ سے رجوع
گورنر کے رول کی سرزنش‘ پارٹی کے درمیان تنازعات میں کردار ادا کرنے کا گورنر کو اختیار نہیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے گزشتہ سال جون میں، مہاراشٹرا میں ہونے والی سیاسی پیش رفت سے متعلق ادھوٹھاکرے گروپ سے شنڈے گروپ کے تنازعہ کے معاملے میں آج اپنا فیصلہ سنایا۔ اگر اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے تو کیا وہ ایم ایل ایز کی نااہلی کی درخواست کو نمٹا سکتے ہیں؟ اب اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کے 7 ججوں کی بنچ کرے گی۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ 2016 کے نبم ریبیا معاملہ، جس میں کہا گیا تھا کہ اسپیکر کی جانب سے نااہل ٹھہرائے جانے کی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی ہے اگر ان کی برطرفی کی تحریک زیر التواء ہے تو اس کے لیے ایک بڑے بیک ریفرنس کی ضرورت ہے۔ اسے بڑی بنچ کو بھیجا جائے۔ اب اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ کے 7 ججوں کی بنچ کرے گی۔شنڈے گروپ کی طرف سے مقرر کردہ بھرت شیٹ گوگاوالے کو شیوسینا کے وہپ کے طور پر تسلیم کرنے کے اسپیکر کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے غلط بتایا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسپیکر کی کارروائی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے کر عدالتوں کو آرٹیکل 212 سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ سی جے آئی نے فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ وہپ سیاسی جماعت کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے اور یہ آئین کے 10ویں شیڈول میں آتا ہے۔ 21 جون 2022 کو، شیوسینا لیجسلیچر پارٹی کے اراکین نے ایک میٹنگ کی اور ایکناتھ شنڈے کو عہدے سے ہٹاتے ہیں۔ اسپیکر کو سیاسی پارٹی کے مقرر کردہ وہپ کو تسلیم کرنا چاہیے تھا نہ کہ شندے گروپ کے گوگاوالے کے مقرر کردہ وہپ کو۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ شیوسینا پارٹی کے چیف وہپ کے طور پر بھرتشیت گوگاوالے (شندے گروپ) کو مقرر کرنے کا اسپیکر کا فیصلہ غیر قانونی تھا۔ اسپیکر کو ایم ایل ایز کی نااہلی کا معاملہ مقررہ وقت میں طے کرنا چاہیے۔ اسپیکر کا انتخاب شیوسینا سربراہ پارٹی آئین کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔سپریم کورٹ نے بھی اس وقت کے گورنر کے فلور ٹیسٹ کو غیر آئینی قرار دیا۔ سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا، ‘گورنر کے سامنے ایسا کوئی دستاویز نہیں تھا، جس میں کہا گیا ہو کہ باغی ایم ایل اے حکومت سے اپنی حمایت واپس لینا چاہتے ہیں۔ صرف حکومت کے بعض فیصلوں میں اختلاف تھا۔ گورنر کے پاس صرف ایک خط تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ادھو حکومت کے پاس پورے نمبر نہیں ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے اندرونی تنازعات یا اختلافات کو حل کرنے کے لیے فلور ٹیسٹ کو ایک ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی آئین اور نہ ہی قانون گورنر کو سیاسی میدان میں آنے اور پارٹی کے درمیان تنازعات میں کردار ادا کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

آئین،ریاست اور ملک کو غلام بننے سے بچانا ہے ، شنڈے اور فڈنویس اخلاقی طور پر استعفیٰ دیں: ادھوٹھاکرے
ممبئی : مہاراشٹر میں ایکناتھ شنڈے اور دیویندرفڑنویس حکومت پر سپریم کورٹ کے آج دیئے جانے والے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہاکہ ریاست کی ایکناتھ شندے اور دیویندرفڑنویس کی حکومت غیر آئینی ہے اور اخلاقی طور پرانہیں استعفیٰ ددے دینا چاہیئے ۔ہم سب کو مل کر ملک کے آئین،ریاست اور ملک کو غلامی سے بچانا ہے ۔ادھو ٹھاکرے نے بہار کے وزیراعلی نیتیش کمار اور نائب وزیر تیجسوی یادو کااستقبال کرتے ہوئے ان کی موجودگی میں کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،کیونکہ بقول عدالت عالیہ میں استعفیٰ نہیں دیا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی،لیکن میں اخلاقی طور پر اپنا استعفیٰ دے دیا ،دراصل شیوسینا کے غداروں کو سوال کرنے کوئی حق نہیں ہے ،پارٹی سربراہ بال ٹھاکرے نے انہیں سیاسی سطح پر نوازا اور انہوں نے غداری کی اور میں انہیں جواب نہیں دینا چاہتاہوں۔ادھو ٹھاکرے نے مزید کہاکہ انہوں نے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دیا،کیونکہ غداروں کے ساتھ حکومت چلانا۔ممکن نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کو بھی ہمارا نشان اور نام ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔