وزیر پنچایت راج سیتکا کا الزام، طبقاتی سروے کی بنیاد پر فلاحی اسکیمات پر عمل آوری
حیدرآباد۔/5 فروری، ( سیاست نیوز) وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس قائدین پسماندہ طبقات کو حقوق سے محروم کرنے کیلئے طبقاتی سروے رپورٹ کی مخالفت کررہے ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سیتکا نے کہا کہ کانگریس حکومت نے وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے ایک سال میں جامع طبقاتی سروے مکمل کیا جس میں بی سی طبقات کی آبادی 56 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی۔ راہول گاندھی کے نظریہ کے مطابق آبادی کے اعتبار سے فلاحی اسکیمات میں حصہ داری کے ذریعہ سماجی انصاف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی سروے کی مخالفت کرنے والے بی آر ایس قائدین نے دس سالہ دور اقتدار میں پسماندہ طبقات کو انصاف فراہم کرنے پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین سے سوال کیا کہ ان کی حکومت کی جانب سے کئے گئے جامع سروے کی رپورٹ برسر عام کیوں نہیں کی گئی۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ غیرمعمولی منصوبہ بندی کے تحت طبقاتی سروے کی تکمیل کی گئی جس میں تمام طبقات کی حقیقی آبادی منظر عام پر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سروے کی تکمیل سے عوام میں پائی جانے والی خوشی بی آر ایس کو برداشت نہیں ہورہی ہے اور سروے میں خامیاں تلاش کی جارہی ہیں۔ ایس سی زمرہ بندی کے موقع پر گذشتہ 30 برسوں سے جدوجہد جاری ہے اور ملک میں تلنگانہ حکومت نے سب سے پہلے زمرہ بندی پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی سروے کی رپورٹ کی بنیاد پر پنچایت راج اداروں میں بی سی طبقہ کو تحفظات فراہم کئے جائیں گے اور فلاحی اسکیمات سے فائدہ ہوگا۔ ریاستی وزیر نے حیرت کا اظہار کیا کہ طبقاتی سروے میں حصہ نہ لینے والے قائدین سروے رپورٹ پر سوال اٹھارہے ہیں۔ کے سی آر، کے ٹی آر، ہریش راؤ کے علاوہ سرینواس یادو نے بھی سروے میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ سروے سے دوری اختیار کرنے والے قائدین کو حکومت پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ کے سی آر نے دلت کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن خود اس عہدہ پر فائز ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر خاندان اراضیات اور دیگر اثاثہ جات کی تفصیلات کو مخفی رکھنے کیلئے سروے سے دور رہا۔1