چیف منسٹر سے استعفیٰ کا مطالبہ مسترد،مہیش کمار گوڑ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے استعفیٰ کے بارے میں بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کے مطالبہ کو مسترد کردیا اور اراضیات کے اسکام پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کنچا گچی باؤلی اراضی معاملہ میں سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کی آڑ میں کے ٹی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے سے قبل کے ٹی آر کو بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں عدالتوں کی جانب سے حکومت کی سرزنش کے فیصلوں کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے کئی مواقع پر سابق بی آر ایس حکومت کے خلاف فیصلے دئے تھے لیکن اس وقت کے چیف منسٹر نے استعفیٰ نہیں دیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ریونت ریڈی کے استعفیٰ کا کوئی جواز اس لئے بھی نہیں ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ میں چیف منسٹر پر کوئی نکتہ چینی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اراضی معاملہ کی سماعت ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے ۔ مہیش کمار گوڑ نے سوال کیا کہ فلاحی اسکیمات کے آغاز پر کیا ریونت ریڈی کو استعفیٰ دینا چاہئے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی بڑھتی مقبولیت سے بی آر ایس قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ اقتدار کے لالچ میں دن رات حکومت کے خلاف الزام تراشی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں کے سی آر اور کے ٹی آر کا رویہ بادشاہوں کی طرح آمرانہ تھا اور غرور و تکبر کی آخری علامت تھے۔ مہیش کمار گوڑ نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی اراضی اور بی آر ایس دور حکومت میں الاٹ کی گئی اراضیات پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں کروڑ مالیت کی سرکاری اراضیات کو بی آر ایس حکومت نے رعایتی اور معمولی قیمت پر اپنے قریبی افراد اور اداروں کو الاٹ کیا تھا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ چیف منسٹر سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا کوئی اخلاق حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی عوامی مقبولیت سے کے ٹی آر اور دیگر قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔1