برلن : جرمن نشریاتی ادارے ریڈکشن نیٹزورک ڈچ لینڈ RND نے کہا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خطرے کو پہلے سے محسوس کر کے ثالثی کی تجویز پیش کی تھی۔RNDنے کہا ہے کہ” اس دور میں مغرب میں اس بات پر یقین رکھنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم تھی کہ جو، زمانہ قریب میں، روس کے یوکرین پر قبضے پر یقین رکھتے ہوں۔ جبکہ صدر اردغان نے واضح شکل میں جنگ کے خطرے کا بھانپ لیا تھا”۔RND کے انٹرنیٹ پیج پر شائع ہونے والے جائزے میں کہا گیا ہے کہ صدر اردغان نے جمعرات کے دن لیویو میں یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کے ساتھ ملاقات میں بھی یقین ظاہر کیا ہے کہ جنگ آخر کار مذاکراتی میز پر ختم ہو گی۔ جائزے میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ موسمِ سرما میں روسی یونٹوں کے یوکرینی سرحد پر آنے کے بعد صدر ایردوان نے ثالثی کی تجویز پیش کی اور اختلافات کو ڈپلومیٹک طریقوں سے حل کرنے کی تنبیہ کی تھی۔مزید کہا گیا ہے کہ صدر اردغان ایسے نادر غیر ملکی سربراہان میں سے ایک ہیں کہ جو اْن دنوں میں بھی اور آج بھی زلنسکی کے ساتھ بھی اور پوتن کے ساتھ بھی اچھے شخصی تعلقات رکھتے ہیں۔ ترکی یوکرین کو ڈرون طیارے فراہم کر رہا ہے دوسری طرف ترکی نیٹو کا واحد رکن ہے جو مغرب کی روس پر عائد کردہ پابندیوں کا اطلاق نہیں کر رہا۔ صدر ایردوان کے ماسکو کے ساتھ اچھے روابط ہیں اور صدر پوتن نے جتنے تواتر سے ترک صدر کے ساتھ ملاقاتیں و مذاکرات کئے ہیں اتنے کسی بھی مغربی سیاست دان کے ساتھ نہیں کئے۔