اردغان کا شام میں کرد جنگجوؤںکیخلاف کارروائی کا مطالبہ

   

انقرہ : ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے تہران میں منعقدہ تین ملکی سربراہی اجلاس میں شام کے کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے مؤقف کو زور دے کر دہرایا ہے باوجود اس کے کہ ایران کے سپریم لیڈر نے ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف انتباہ کیا تھا۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق منگل کو اردوغان نے روس اور ایران کے رہنماؤں سے کہا کہ وہ شام میں ’دہشت گردوں‘ کے خلاف انقرہ کی لڑائی میں ان کی مکمل حمایت کی توقع رکھتے ہیں۔تین ملکی سربراہی اجلاس کی میزبانی ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کی۔ اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن بھی شریک تھے۔بظاہر اس سربراہی اجلاس کا مقصد شام میں 11 سال سے زائد عرصے سے جاری تنازعہ کو ختم کرنا تھا۔ ایران اور روس دمشق حکومت کی حمایت کرتے ہیں جبکہ ترکی بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شام میں باغی قوتوں کی حمایت کرتا ہے۔ترکی شام کے تیل سے مالا مال شمال مشرق میں نیم خودمختار کرد انتظامیہ کا بھی شدید مخالف ہے۔روس اور ایران دونوں شام کے ان حصوں میں فوجی موجودگی رکھتے ہیں جن کا ذکر ترکی کے نئے حملے کے ممکنہ اہداف کے طور پر کیا گیا ہے۔