ٹی آر ایس حکومت کی پہلی میعاد تین غیر اقلیتی اداروں میں مسلمانوں کو نمائندگی ، دوسری میعاد میں مسلمان نظر انداز
حیدرآباد ۔ 22 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : ریاست میں مسلمانوں سے نا انصافیوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ ایک کے بعد دیگر حکومت کے نامزد بورڈس ، کارپوریشنس کی تشکیل کا سلسلہ جاری ہے ۔ مگر اردو اکیڈیمی ، اقلیتی کمیشن اور سٹ ون کی تشکیل کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر ریاست میں سماج کے تمام طبقات اور مذاہب کے ساتھ انصاف کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ مگر ان کے دعوے عمل آوری کے معاملے میں جانبداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں ۔ جس سے گنگا جمنی تہذیب کی قلعی کھل گئی ہے ۔ تلنگانہ میں اقلیتوں کی 14 فیصد آبادی ہے ۔ مگر ریاست میں سب سے بڑی اقلیت کو نظر انداز کرنے کی شکایتیں بڑھتی جارہی ہیں ۔ حکومت کی جانب سے دوسرے تمام کارپوریشنس تشکیل دیئے جارہے ہیں ۔ مگر اقلیتی کارپوریشنس اور بورڈس وغیرہ کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل پانے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی پہلی میعاد میں تین غیر اقلیتی کارپوریشنس و بورڈ کا مسلمانوں کو صدر نشین بنایا تھا ۔ جس میں بوڈھن بیگ کو انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا صدر نشین ، یوسف زاہد کو کھادی ویلیج بورڈ اور ایس اے علیم کو ریڈکو کا صدر نشین بنایا گیا تھا ۔ تاہم 2018 میں دوبارہ اقتدار حاصل ہونے کے بعد چیف منسٹر کے سی آر نے غیر اقلیتی اداروں میں مسلمانوں کو یکسر نظر انداز کردیا ہے ۔ ان کارپوریشنس ، بورڈ ، اکیڈیموں میں ایک بھی مسلم قائد کو صدر نشین نہیں بنایا گیا ۔ یہاں تک اقلیتی کمیشن ، اردو اکیڈیمی اور سٹ ون کے عہدوں پر بھی نامزدگیاں عمل میں نہیں آئی ہیں ۔ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے مگر اردو کو فروغ دینے کے لیے نا فنڈز جاری کئے جارہے ہیں اور نہ ہی کوئی سرگرمیاں چلائی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر نے عالمی تلگو کانفرنس کا انعقاد کرنے کے بعد سرکاری طور پر عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا ۔ اس کو بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ اردو کمپیوٹر سنٹرس ، لائبریریز اور دوسری ساری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔ اقلیتی نوجوانوں کو روزگار سے مربوط کرنے کے لیے مختلف تربیتی کورسیس کی کوچنگ اور خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے سٹ ون کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ مگر تلنگانہ حکومت کی جانب سے اس پر خاطر خواہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے یہ ادارہ بے یار و مددگار میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے ۔ ریاستی اقلیتی کمیشن ایک اہم ادارہ ہے جہاں اقلیتیں اپنے نا انصافیوں ، حق تلفی کی اس سے شکایت کرتے ہیں ۔ اس کی تشکیل کو بھی نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ جس سے خود ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین میں مایوسی اور ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ لمبے عرصے تک ان اہم عہدوں کو مخلوعہ رکھنے سے حکومت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی و فلاح و بہبود میں غیر سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے ۔۔ ن