18 آفیسرس کو دو ماہ سے پوسٹنگ کا انتظار، موجودہ وزراء کی پیشی میں اردو آفیسرس نہیں
حیدرآباد۔/21 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے اور سرکاری سطح پر اردو کے استعمال کیلئے اردو آفیسرس کا تقرر کیا گیا لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد اردو آفیسرس کی خدمات کو فراموش کردیا گیا۔ کانگریس حکومت کی تشکیل کو دو ماہ مکمل ہوگئے لیکن وزراء کے چیمبرس میں اردو آفیسرس کی تاحال پوسٹنگ نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں ریاستی وزراء کی سرگرمیاں صرف تلگو زبان میں میڈیا تک پہنچائی جارہی ہیں اور اردو میں پریس نوٹ کی اجرائی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔2018 میں اردو کے سرکاری سطح پر استعمال کیلئے60 اردو آفیسرس کا تقرر کیا گیا اور انہیں چیف منسٹر اور 17 وزراء کی پیشی میں پوسٹنگ دی گئی تھی باقی آفیسرس کو ضلع کلکٹرس، اسمبلی، کونسل، ڈائرکٹر جنرل پولیس، کمشنرس آف پولیس اور جی اے ڈی جیسے محکمہ جات میں پوسٹنگ دی گئی تھی۔ اردو آفیسرس کے تقررات کے نتیجہ میں سرکاری محکمہ جات کی سرگرمیوں کے بارے میں اردو میڈیا کو پریس نوٹ جاری کئے جاتے رہے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد چیف منسٹر اور 17 وزراء کی پیشی میں خدمات انجام دینے والے اردو آفیسرس کو ڈائرکٹوریٹ اقلیتی بہبود واپس طلب کرلیا گیا۔ کانگریس حکومت میں چیف منسٹر کے علاوہ 11 وزراء نے حلف لیا اور دو ماہ سے 12 رکنی وزارت کام کررہی ہے لیکن افسوس کہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو اردو آفیسرس کی پوسٹنگ کا خیال نہیں آیا۔ 18 اردو آفیسرس روزانہ اقلیتی بہبود ڈائرکٹوریٹ میں حاضری درج کراتے ہوئے صرف وقت گذاری کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں کو کابینہ میں توسیع کا انتظار ہے اور وہ 18 رکنی مکمل کابینہ کی تشکیل کے بعد ہی پوسٹنگ دینا چاہتے ہیں۔ کابینہ میں توسیع سے اردو آفیسرس کی پوسٹنگ کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ آفیسرس کا تقرر خود مکمل کابینہ کی تشکیل کی شرط کے تحت نہیں کیا گیا تھا۔ کابینہ میں ایک بھی وزیر ہو تو ان کے پاس اردو آفیسرس کی پوسٹنگ کی جانی چاہیئے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی پیشی میں بھی سرکاری طور پر پوسٹنگ نہیں کی گئی اور وہاں اردو آفیسر کی خدمات غیر سرکاری طور پر حاصل کی جارہی ہیں۔ اردو کے سرکاری سطح پر استعمال کو یقینی بنانا ہو تو موجودہ وزراء کی پیشیوں میں اردو آفیسرس کا فوری تقرر کیا جانا چاہیئے۔1