اردو میڈیم سرکاری اسکولس محفوظ زمروں کیلئے 178 جائیدادیں برسوں سے مخلوعہ

   

ضلع کلکٹر حیدرآباد پرینکا الا کا جائزہ اجلاس ، اردو میڈیم بحران پر حکومت کو رپورٹ روانہ کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد 29 ستمبر : ( سیاست نیوز) : حیدرآباد کے سرکاری اسکولس اور دوسری زبان کے طور پر اردو کی تعلیم فراہم کرنے والے تعلیمی اداروں میں ان دنوں ایک عجیب اور تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ شہر کے متعدد اسکولس میں اردو کے اسباق پڑھانے اساتذہ موجود ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کی پڑھائی شدید متاثر ہورہی ہے ۔ سکنڈری گریڈ ٹیچرس کی عدم دستیابی کے باعث اس وقت 178 جائیدادیں مخلوعہ ہیں ۔ جب حیدرآباد کی کلکٹر پرینکاالا نے محکمہ تعلیم کا جائزہ لیا تو یہ سنگین مسئلہ ابھر کر سامنے آیا ہے ۔ اس بحران کی بنیادی وجہ اردو میڈیم کی بھرتیوں میں تحفظات کا نفاذ اور مخصوص زمروں ( ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ) میں امیدواروں کا دستیاب نہ ہونا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ تمام جائیدادیں مسلسل ’ بیگ لاگ ‘ میں جارہی ہیں ۔ ضلعی محکمہ تعلیم کے مطابق شہر میں کوئی بھی غیر مسلم ایسا نہیں مل رہا ہے جس نے پرائمری سے انٹر میڈیٹ اور بعد میں D.Ed اردو میڈیم میں مکمل کیا ہو ۔ اگرچہ حیدرآباد میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 30 فیصد ہے لیکن روزگار اور اعلیٰ تعلیم کیلئئے طلبہ صرف دسویں جماعت تک اردو میڈیم کا انتخاب کرتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ انٹر میڈیٹ ، ڈگری اور انجینئرنگ میں انگلش میڈیم اختیار کرلیتے ہیں ۔ جب کہ انٹر میڈیٹ میں اردو کو صرف پہلی زبان کے طور پر رکھا جاتا ہے ۔ انٹر میڈیٹ کے بعد اکثریت انجینئرنگ ، میڈیکل اور پیشہ وارانہ کورسیس کا رخ کرتی ہے جس کی وجہ سے ٹیچرس ٹریننگ کورسیس D.Ed کرنے کا رجحان انتہائی کم ہوچکا ہے ۔ صرف پرانے شہر کے چند علاقوں میں والدین کے مشورہ پر لڑکیاں ڈی ایڈ میں داخلہ لیتی ہیں ۔ ان تمام تر ترجیحات کے نتیجے میں صرف او سی اور بی سی ای زمروں سے ڈی ایڈ مکمل کرنے والے امیدوار ہی تدریسی جائیدادوں کیلئے درخواستیں دے رہے ہیں ۔ پچھلے 12 برسوں سے جب بھی ٹیچر بھرتی ( ڈی ایس سی ) کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے تو ایس سی ، ایس ٹی اور دیگر مخصوص بی سی زمروں میں ریزرویشن کے مطابق مطلوبہ امیدوار دستیاب نہیں ہورہے ہیں ۔ اور یہ تمام جائیدادیں بیک لاگ رہ جاتے ہیں ۔ محکمہ تعلیم کے حکام نے واضح کیا کہ اگر کوئی امیدوار اردو میڈیم سے ڈی ایڈ مکمل کرتا ہے تو اس کا ٹیچر بننے کا صد فیصد امکان ہے ۔ اس سنگین انتظامی اور تعلیمی مسئلہ کو سلجھانے اور آئندہ نئے نوٹیفیکیشن سے قبل حل نکالنے حکام نے صورتحال کی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 2/k/b