جامع مسجد عالیہ میں تاریخ اسلام لکچر ،پروفیسر سید راشد نسیم ندوی کا خطاب
حیدرآباد۔19 نومبر (راست)اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت فرمائی اور سلسلہ نبوت و رسالت کو ختم فرمایا ، لہٰذا لازمی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے امت محمدی علی صاحبھا الصلاۃ والسلام کو منتخب فرمایا۔ اس امت کو خیر امت اور حامل منصب شہادت و دعوت قرار دیا، اس امت کے تمام نسلوں میں سب سے مقبول و ممتاز اور مقدس و بابرکت نسل قرونِ اولیٰ میں صحابہ کی جماعت ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم میں بھی فرق مراتب ہے ۔ فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کرنے والوں کی فضیلت عام صحابہ کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ان میں بدری صحابہ یعنی جو غزوہ بدر میں شریک تھے انکی فضیلت اور بھی زیادہ ہے ۔ جبکہ عشرہ مبشرہ سب سے افضل ہیںاور ان میں بھی خلفائے راشدین اس امت کے گل سرسبد ہیں ، جن کے بارے خود لسانِ نبوت نے اعلان کردیا تھا کہ تم پر میری سنت کی پیروی اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی پیروی لازم ہے۔ لہٰذا جہاں احادیث نبویہ کے ذخیرے سے جس طرح استفادہ ضروری ہے ویسے ہی خلفائے راشدین کی سیرت کا مطالعہ ضروری ہے۔اسی غرض و غایت کی تکمیل کے لیے محدثین و مؤرخین نے عربی میں ان نفوس قدسیہ کے متعدد تذکرے قلمبند کیے ۔ ہندوستان میں سب سے پہلے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے اپنی تصنیف لطیف کے ذریعہ اس موضوع پر تحریر کا آغاز فرمایا اور ایک اہم کتاب ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء قلمبند کیا پھر اردو میں خلفائے راشدین کی سیرت پر گرانقدر تحریری سرمایہ وجود میں آیاجو اپنی مثال آپ ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید راشد نسیم ندوی نے کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ ، گن فائونڈری میں تاریخ اسلام لکچر کی (۹۷۷) ویں نشست کو بعنوان ’’اُردو میں خلفائے راشدین کی سیرت پر تحریری سرمایہ‘‘ میں کیا ۔ نشست کا آغاز حافظ محمدتنویر عالم کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ جناب غلام یزدانی ایڈدکیٹ نے مقرر کا تعارف کروایا ۔ مقرر نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جامع دلنواز اور ادبی پیرائے میں جو سوانح عمری لکھی گئی وہ ’’سیرت الصدیق‘‘ کے نام سے مولانا حبیب الرحمن شیروانی نے سپرد قرطاس کیا، مولانا شیروانی عثمانیہ یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر اور دکن کی سلطنت کے مذہبی امور کے صدر الصدور تھے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری مولانا شبلی نعمانی نے تالیف کی جو ’’الفاروق‘‘ کے نام سے دستیاب ہے ۔ الفاروق کتاب تحقیقی مواد ، ادبی اسلوب اور تاریخ کا تنقیدی جائزہ کا ایک مستند نمونہ ہے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سیرت کو ایک نامور عالم مولانا سید احمد اکبر آبادی نے اپنی تحقیق و تصنیف کا موضوع بنایا جو علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسراسلامیات اور ایک نابغہ روزگار محقق تھے ۔ آپ کی یہ تالیف ’’عثمان ذوالنورین‘‘ کے نام سے مقبول عام و خاص ہے۔ جہاں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت کا معاملہ ہے تو ہ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ کا موضوع رہا اور آپ نے انتہائی اعتدال و جامعیت و جاذبیت کے ساتھ ’’المرتضیٰ‘‘ تصنیف کی جو متعدد بار طبع ہوچکی۔ آج ہماری ذمہ داری ہے اس نادر وقیمتی تحریری سرمایہ کی علمی و فکری استفادہ کرتے ہوئے دنیا میں سربلندی اور نجات اخروی حاصل کریں۔ مقرر کی دعا پر محفل کا اختتام عمل میں آیا۔