اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
لکھنؤ ۔ اب تو سائنس نے بھی یہ ثابت کردیا ہے کہ اردو زبان لکھنے پڑھنے اور بولنے سے نہ صرف زبان میں شائستگی پیدا ہوتی ہے بلکہ دماغ بھی روشن ہو جاتا ہے اور خاص طور پر یادداشت کمزور ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لکھنؤ کے سنٹر برائے بائیو میڈیکل ریسرچ
(CBMR)
نے ایک تحقیق میں دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ اردو پڑھنے سے دماغ تیز ہوتا ہے اور یہ بچوں کی ذہنی نشونما میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ حال ہی میں ایک بین الاقوامی جریدہ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اردو کو پڑھنے میں زیادہ اہمیت کا حامل اس لئے بتایا گیا ہے کہ اسے دائیں جانب سے لکھا جاتا ہے۔ یوں تو عربی، فارسی اور سندھی زبانیں بھی دائیں جانب سے لکھی جاتی ہیں لیکن اردو کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اسے آسانی سے سمجھ میں آنے والی زبان قرار دیا گیا ہے جس کی اپنی مٹھاس ہے جس کی چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ غیر اردو داں طبقہ بھی اردو غزلوں کا شیدائی ہے۔ اردو غزلوں کی ہی وجہ سے کئی شعراء اور گلوکاروں نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی جن میں مہدی حسن، جگجیت سنگھ، غلام علی اور پنکج ادھاس کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ جس طرح انگریز کی مادری زبان انگریزی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود انگریزوں میں ایسے لوگ مل جائیں گے جو انگریزی میں کمزور ہوتے ہیں اور بالکل یہی بات اردو کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے لیکن اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔