اردو کیساتھ ہونے والی ناانصافی کے سدباب پر زور : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

   

اردو ٹیچرس کے تقررات کی وکالت، اقلیتوں کے سماجی ، معاشی و سیاسی موقف پر ڈائیلاگ، محمد علی شبیر اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔29جنوری(سیاست نیوز)صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا خالد سیف اللہ الرحمانی نے عمل کے بغیر جلسوں ‘ جلوسوں اور اجتماعات کو بے مقصد قراردیا ۔ آپسی تال میل کے ساتھ حکمت عملی پر زوردیتے ہوئے انہوں نے ریاست میں زبان اُردو کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے سدباب پر زوردیا۔ انہوں نے حکومتوں کو اُردو کودوسری سرکاری زبان کے طور پر استعمال نہیںکرنے کا بھی مورد الزام ٹہرایا۔انہوں نے حکومت تلنگانہ کو مشورہ دیاکہ وہ اُردو ٹیچرس کے تقرر کو یقینی بنائیں اور اس کے لئے ریاست کی اُردو اکیڈیمی کو بھی متحرک کرنے کا مشورہ دیا۔آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ شاخ کے زیر اہتمام تلنگانہ میںاقلیتوں کے سماجی‘ معاشی اور سیاسی موقف پر منعقدہ ’’ڈائیلاگ ‘‘ سے وہ صدراتی خطاب انجام دے رہے تھے۔ مشیر حکومت تلنگانہ اقلیتی امور محمد علی شبیر‘ چیرمن تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن عامر اللہ خان‘ چیرمن تلنگانہ وقف بورڈ عظمت اللہ حسینی‘ چیرمن تلنگانہ اسٹیٹ میناریٹی فینانس کارپوریشن عبید اللہ کوتوال‘چیرمن تلنگانہ اُردو اکیڈیمی طاہر بن حمدان‘ چیرمن ٹی جی ایم آر ای آئی ایس ‘ سابق رکن قانون ساز کونسل امین الحسن جعفری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ معاشرے میں تیزی کے ساتھ پھیلانے والی برائیو ں ‘ حق تلفی اوربیجااصراف کی لعنت سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے بھی سخت اقدامات کو انہوں نے ضروری قراردیا۔ انہوں نے تلنگانہ وقف بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ قاضیوں کو شرعیت کی روشنی میںاپنے امور انجام دینے کا پابند بنایاجائے۔ محمد علی شبیر نے کانگریس کی متحدہ آندھرا پردیش اورتلنگانہ میں ایک سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج نہ صرف تلنگانہ بلکہ آندھرا اور دیگر ریاستوں میں اقلیتوں کے لئے تحفظات کا نفاذ عمل میںآیاہے۔ انہو ںنے 1993میںکانگریس کی جانب سے تعلیمی تحفظات کے لئے کی گئی مہم پر روشنی ڈالی اورکہاکہ اس کے بعد علیحدہ بجٹ کے لئے بھی اسی وقت کام شروع ہوا تھا ۔ انہوں نے بتایاکہ متحدہ ریاست آندھر اپردیش میں اقلیتوں کے لئے پہلی مرتبہ 3کروڑ کا بجٹ جاری ہوا تھا جو اب بڑھ کر 3300کروڑ ہوگیاہے۔انہوں نے کہاکہ راج شیکھر ریڈی جب ریاست کے چیف منسٹر تھے کانگریس نے مسلمانو ں کو چار فیصد تحفظات کی فراہمی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔محمد علی شبیر نے کہاکہ اس کے بعد سے اب تک ہزاروں مسلم لڑکے اور لڑکیاں اعلی تعلیم حاصل کرنے میںکامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ قبائیلی لڑکیوں کے ساتھ مسلمان لڑکوں کی شادیاں ہو یا پھر مقامی سطح پر کاروبار کا مسئلہ ہو ان تمام حوالوں سے فرقہ پرستوں نے قبائیلی طبقات کے اندر نفرت بھڑکائی جس کے نتیجے میں وہاں پر فساد برپا ہوا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ حکومت نے جنیور میںحالات کی بحالی کے لئے جنگی خطوط پر کام کیاہے ۔جواب میںمحمد علی شبیر نے کہاکہ حکومت اس محاذ پر بھی بہتر انداز میںکام کررہی ہے اور معاوضہ کی ادائیگی ۔حکومت کے ذات پات پر مشتمل مردم شماری کے حوالے سے محمد علی شبیر نے کہاکہ اس سے اوسی اوراو بی سی دونوں زمروں میں مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔تلنگانہ میںکانگریس کے دور حکومت میں مسلمانوں کے مستقبل کو تابناک قراردیتے ہوئے انہوں نے کانگریس پارٹی کواقلیتوں کے حقیقی ہمدرد کے طور پر پیش کیا۔دیگر شرکاء نے بھی اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی ۔اس موقع پر جنرل سکریٹری ال انڈیا ملی کونسل مفتی عمرعابدین چھ صفحات پر مشتمل ایک قرارداد حکومت کے ذمہ داران کے حوالے کی جس میں حکومت کو تلنگانہ میںاقلیتوں کے سماجی ‘ معاشی اور سیاسی موقف میںسدھار او ربہتری لانے کے زرین مشورے پیش کئے گئے ہیں ۔ محمد علی شبیر اور امین الحسن جعفری کے مابین تحفظات ‘ بجٹ میںمحکمہ جاتی سطح پر کٹوتی ‘ سیاسی تحفظات میںبلدیہ اور پنچایت انتخابات میں مسلمانوں کونظر انداز کرنے پر مشتمل سوال جواب کا سلسلہ بھی کچھ دیر تک چلتا رہا۔آل انڈیاملی کونسل میڈیاڈپارٹمنٹ جنرل سکریٹری سید محمد اور لیگل وینگ جوائنٹ سکریٹری ایس کیو مقصود نے ’’ڈائیلاگ ‘‘ کے تیسرے سیشن’’پینل ڈیسرکشن‘‘ کی میزبانی کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کے متعلق پروگرام میںموجود حکومت کے ذمہ داران سے محکمہ جاتی سطح پر ہونے والی ناانصافیوں ‘ کوتاہیوں پر بھی سوالات کئے ۔ ظفر مسعود کے شکریہ پر پروگرام کا اختتام عمل میںآیا۔