ایڑیاں اپنی زمیں پر نہیں ٹکنے دیتا
قد بڑھانے کا اسے خوب ہنر آتا ہے
چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ ختم ہونے کی بجائے ایسا لگتا ہے کہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور چین کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے صورتحال معمول پر آنے نہیںپا رہی ہے ۔ سرحد پر ہندوستانی افواج نے پوری مستعدی کے ساتھ حفاظت کی ہے اور وہ چین کی جانب سے ہونے والی جارحیت کا موثر جواب بھی دے رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں تاونگ کے مقام پر دونوںملکوں کی افواج کے مابین جھڑپ کی اطلاع سامنے آئی ہے جس میںدونوں ہی جانب فوجیوںکو معمولی زخم آنے کی اطلاع بھی ہے ۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آج پارلیمنٹ کے دونوں ہی ایوانوں میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ چین کی جانب سے یکطرفہ طور پر ہندوستانی سرحد میںداخلہ اور کچھ علاقہ کو ہتھیانے کی کوششوں کو ہندوستانی فوج نے موثر طریقہ سے ناکام بنادیا ہے ۔ چین کی سرحد کا معاملہ ہمارے لئے تشویش کا باعث بنا ہوا ضرور ہے اور اس پر پوری توجہ کرتے ہوئے اس کی یکسوئی میںکوتاہی ہو رہی ہے ۔ ہماری مسلح افواج پوری تندہی اور طاقت کے ساتھ ہماری سرحدات کی حفاظت کر رہی ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا موثر جواب بھی دیا جا رہا ہے ۔ تاہم حکومت کی جانب سے سیاسی اور سفارتی سطح پرا س مسئلہ کی مستقل یکسوئی کیلئے کوئی اقدامات نہیںکئے گئے ہیں۔ اکثر و بیشتر مقامی سطح پر فوجی چیانلس کے ذریعہ بات چیت کی بھی اطلاعات آتی ہیں ساتھ ہی سٹیلائیٹ تصاویر بھی سامنے آتی ہیں جن میں چین کی جانب سے کی جانے والی تعمیرات کو اجاگر کیا جاتا ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ چین نے ہندوستانی سرحدات میںوسیع علاقہ پر اپنی تعمیرات کو یقینی بنایا ہے ۔ یہاںفضائی اڈے قائم کردئے گئے ہیں اور کچھ گاوں بھی آباد کردئے گئے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ قابل تشویش ہے اور اس پر حکومت کو جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی سرحدات کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کو برداشت کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کو اس صورتحال کو ذہن نشین رکھتے ہوئے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ موثر انداز میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس پر ملک کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے ۔
چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ نیا نہیںہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے عزائم جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ چین اپنی جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم سے باز نہیںآ رہا ہے ۔ ہماری افواج کی جانب سے مسلسل چین کے عزائم کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ تاہم سیاسی اور سفارتی سطح پر اس مسئلہ کی یکسوئی کی جانی چاہئے ۔ چین کو آنکھیںلال کرکے جواب دینے کا وقت آگیا ہے ۔ ہمیںصورتحال سے نظریں چرانے کی بجائے اس کا سامنا کرنے اور ہماری سرحدات میںاگر کوئی مداخلت ہوئی ہے توا س کو ختم کرنے کیلئے تیار ہوجانا چاہئے ۔ حکومت نے اکثر و بیشتر ہندوستانی سرحدات میںکسی طرح کی مداخلت یا در اندازی کی تردید ہی کی ہے ۔ تاہم اس تعلق سے جو سٹیلائیٹ تصاویر وقفہ وقفہ سے میڈیا میںسامنے آئی ہیںوہ کچھ اور صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں ۔ اس پر حکومت کو واضح جواب دینا چاہئے ۔ پارلیمنٹ کا اجلاس چل رہا ہے ۔ حالانکہ وزیر دفاع نے اس پر آج دونوںہی ایوانوں میں جواب دیتے ہوئے واضح کردیا کہ چین کی جانب سے در اندازی کی کوشش کو ہماری افواج نے ناکام بنادیا ہے ۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سارے تنازعہ پر اور اب تک ہوئی بات چیت اور مسئلہ کی مستقل یکسوئی کیلئے حکومت کی جانب سے سفارتی سطح پر جو کچھ بھی کوششیں کی گئی ہیں اور اس کے جو کچھ بھی نتائج سامنے آئے ہیںان کو پارلیمنٹ میںتفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے ۔ اس طرح سے حکومت ملک کی پارلیمنٹ کو اعتماد میںلینے میں کامیاب ہوسکتی ہے ۔
سرحد پر مسلسل کشیدگی اچھی بات نہیں ہوسکتی ۔ اس کے اثرات مضر بھی ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ ہماری افواج ہر طرح کی بیرونی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور انہوں نے اب تک ہر موقع پر اپنی طاقت کا لوہا بھی منوالیا ہے تاہم سفارتی کوششوں کی کمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ سفارتی سطح پر چینی حکام کے ساتھ بات چیت کی جانی چاہئے اور سرحدی تنازعہ کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے کوشش کی جانی چاہئے ۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے سے مسئلہ کی یکسوئی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی سرحدی کشیدگی کو اس طرح سے حل کیا جاسکتا ہے ۔ اس اہم ترین مسئلہ پر عوام کی تشویش کو بھی دور کیا جانا چاہئے ۔