یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
اروند کجریوال کے قومی عزائم
چیف منسٹر دہلی اور عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال پنجاب کے اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کی کامیابی کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں اپنی پارٹی کو وسعت دینے اور وہاں انتخابات لڑنے کی تیاریوں میںمصروف ہوگئے ہیں۔ یہ تیاریاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب خود ان کی حکومت والی دہلی میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر پہونچ گئی ہے ۔ اقلیتوں کو وہاں نشانہ بناتے ہوئے ان کے سر سے سائبان چھین لیا گیا ہے ۔ ان کی تجارت اور کاروبار کو مسمار کردیا گیا ہے ۔ اروند کجریوال اس مسئلہ پر کسی طرح کا تبصرہ یا ریمارک کرنے سے خود کو بچائے ہوئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ دہلی میں پولیس اور لا اینڈ آرڈر ریاستی حکومت کے تحت نہیں ہے اور مرکزی حکومت اس کی ذمہ دار ہے لیکن اس پر بحیثیت چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کو اپنے موقف کا اظہار کرنا چاہئے تھا ۔ مسلمانوں کے خلاف برپا کئے گئے تشدد کی مذمت کرنی چاہئے تھی ۔ جو مکانات اور دوکانیں گرائی گئی ہیں ان کے تعلق سے بیان دینا چاہئے تھا بلکہ جہانگیر پوری کا دورہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لینا چاہئے تھا اور حالات کو بہتر بنانے کیلئے اپنے طور پر کچھ ضرور کرنا چاہئے تھا ۔ تاہم چونکہ اروند کجریوال ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی پارٹی کو وسعت دینے اور وہاں انتخابات لڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ایسے میں انہیں وہ شائد مسلمانوں کی ہمدردی کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے ۔ وہ بین بین پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے انتخابی مفادات کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں جو در اصل نرم ہندوتوا کے مترادف ہے ۔ یہ ڈوغلی پالیسی بھی کہی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ کجریوال گجرات ‘ کرناٹک اور دوسری ریاستوں پر توجہ کرتے ہوئے وہاں کے دورے بھی کر رہے ہیں اور ان ریاستوں کے عوام کو دہلی ماڈل کی حکمرانی کا خواب دکھا رہے ہیں۔ بحیثیت سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی اور اروند کجریوال کو ملک کی کسی بھی ریاست میں کسی بھی وقت انتخابات لڑنے کا مکمل اختیار ہے لیکن انہیں حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئے ۔ انہیں اس بات کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ ان کی مقابلہ آرائی سے کہیں بی جے پی کو ہی فائدہ نہ ہونے پائے ۔
گجرات میں بی جے پی دو دہوں سے زیادہ عرصہ سے حکمرانی کر رہی ہے ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں وہاں بی جے پی بمشکل اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب ہوئی تھی ۔ کچھ مقامی جماعتوں کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں کانگریس وہاں بی جے پی سے اقتدار چھیننے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی ۔ اس بار بھی ریاست میں کانگریس پارٹی ہی بی جے پی سے حقیقی معنوں میں مقابلہ کرسکتی ہے ۔ جو عناصر دعوی کرتے ہیں کہ وہ بی جے پی کو شکست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ان کے دعووں کی حقیقت کا ثبوت اسی بات سے ملے گا کہ یہ جماعتیں کانگریس کے خلاف مقابلہ کرنے کی بجائے اس کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ جہاں کہیں تنہا یہ جماعتیں مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرسکتی ہیں یقینی طور پر انہیں مقابلہ کرنا چاہئے لیکن جہاں وہ صرف ووٹ کاٹنے کے موقف میں ہوں وہاں انہیں بی جے پی کی بالواسطہ مدد کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ جہاں تک کرناٹک کی بات ہے کرناٹک میں کانگریس ہی واقعی ایک متبادل ہے ۔ پارٹی اپنے طور پر انتخابی تیاریوں میں مصروف بھی ہے ۔ ریاستی جماعت جنتادل ایس کے ساتھ کانگریس نے ماضی میں اتحاد کیا تھا اور مستقبل میں بھی اتحاد کے امکانت کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے میں جو جماعتیں بی جے پی کی شکست کا نعرہ دیتی ہیں انہیں ماحول کو بگاڑنے یا بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ ورنہ ایسی جماعتوں پر بھی بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کے الزامات عائد کئے جاسکتے ہیں۔
عام آدمی پارٹی کے حوصلے پنجاب میں اپنی کامیابی سے بلند ہوئے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کے حوصلے اس طرح کی کامیابی سے بلند ہوتے ہی ہیں۔ تاہم پارٹی کو اپنی تنظیمی طاقت کا بھی احساس کرنا چاہئے ۔ ہر ریاست میں پنجاب جیسا ماحول نہیں ہوسکتا ۔ پنجاب میں چند برسوں سے پارٹی نے اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کی تھی ۔ اس کے برخلاف گوا میں پارٹی نے کوشش کی تھی لیکن وہاں اسے بری طرح سے ناکامی ہوئی ہے ۔ اس طرح صرف کامیابی کو نہیں بلکہ ناکامی کو بھی ذہن میں رکھتے ہوئے اسے اپنی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے ۔ محض ہوا میں تیر چلانے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔
