… ( راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان کشیدگی) …
میرے فون کی ٹیاپنگ کا شبہ، پروٹوکول کی خلاف ورزیاں، بلز کوجائزہ لینے کے بعد منظور ی دوں گی، یونیورسٹیز کے ریکروٹمنٹ بورڈ پر اعتراض
پرگتی بھون کی طرح راج بھون کے دروازے بند نہیں، عوام کبھی بھی مسائل پیش کرسکتے ہیں
حیدرآباد۔/9 نومبر، ( سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان دوریاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے راج بھون میں باقاعدہ پریس کانفرنس طلب کرتے ہوئے کے سی آر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سرکاری بلز کی منظوری میں تاخیر، ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی خریدی اور دیگر اُمور پر گورنر نے کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا۔ گورنر نے کہا کہ راج بھون دراصل پرگتی بھون نہیں ہے۔ فارم ہاوز کیس میں راج بھون کو گھسیٹنے کی کوشش کی گئی۔ سابق میں تشار راج بھون میں اے ڈی سی کے طور پر کام کرچکے ہیں اور جان بوجھ کر ارکان اسمبلی خریدی معاملہ میں تشار کے نام کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کئے جارہے پروپگنڈہ اور مہم کا بہتر طور پر جواب دے سکتی ہیں۔ گورنر نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ان کے ٹیلی فون کو ٹیاپ کیا جارہا ہے اور یہ بات باعث تشویش ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے روانہ کردہ مختلف بلز کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہر بل کا تفصیلی طور پر جائزہ لینے کے بعد ہی اس کی منظوری دی جائے گی۔ سرکاری بلز کو منظوری دیئے بغیر انہیں روکنے سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ بلز کے بارے میں جو اندیشے پائے جاتے ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے روانہ کردہ بلز کا وہ جائزہ لے رہی ہیں۔ حکومت نے مجھے جو بلز روانہ کئے ہیں ان کا تفصیلی طور پر جائزہ لینے کیلئے کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ میں نے حکومت سے بلز کے بارے میں فیصلہ کیلئے وقت مانگا ہے۔ بلز کا جائزہ لینا میری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز میں مخلوعہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ جائیدادوں پر تقررات کیلئے انہوں نے حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔ گورنر نے کہا کہ تقررات کیلئے حکومت سے بار بار مطالبہ کیا گیا۔ تقررات کیلئے مشترکہ ریکروٹمنٹ بورڈ کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ میں نے کسی بھی بل کو روکا نہیں ہے۔ مجھ پر بلز کو روکے رکھنے کا الزام غلط ہے۔ تقررات کے نئے طریقہ کار کے بارے میں مجھے بعض اندیشے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یونیورسٹیز میں تقررات کیلئے مشترکہ ریکروٹمنٹ بورڈ کی ضرورت کیوں پڑی اس معاملہ کا وہ جائزہ لے رہی ہیں۔ ٹیچنگ اسٹاف کے تقررات کیلئے میں ابتداء ہی سے حکومت سے نمائندگی کرتی رہی ہوں۔ حکومت کو اچانک نئے مشترکہ بورڈ کی ضرورت محسوس کیوں ہوئی۔ گورنر نے کہا کہ بعض یونیورسٹیز میں وائس چانسلرس کے عہدے بھی خالی ہیں اور میری بارہا توجہ دہانی کے بعد بعض وائس چانسلرس کا تقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 8 برسوں تک وائس چانسلرس کے عدم تقررات پر ٹیچرس کی تنظیموں نے احتجاج کیوں نہیں کیا اور صرف ایک ماہ بلز کی منظوری میں تاخیر پر وہ احتجاج پر اُتر آئے۔ میں نے تقررات سے متعلق بل کو اولین ترجیح دی۔ میری ذمہ داری حکومت کے روانہ کردہ بلز کو صرف منظوری دینا نہیں ہے۔ مجھ پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام غلط ہے۔ گورنر نے پروٹوکول نظرانداز کرنے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بعض افراد پروٹوکول کے بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔ میرے دورہ کے بارے میں تمام تر تفصیلات متعلقہ عہدیداروں کو فراہم کی جارہی ہیں۔ سابق میں میرے دورہ کے موقع پر پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے والے کلکٹر اور ایس پی کے خلاف حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے پروٹوکول کی پابندی کی ہے تو پھر ان کے استقبال کیلئے آنے سے گریز کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی کرسکتی ہے، ہر کسی پر الزام تراشی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راج بھون کے وقار کو مجروح کرنے کیلئے حکومت ایسا کررہی ہے۔ ریاست میں جہاں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہو راج بھون پہنچ کر احتجاج کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ راج بھون ہمیشہ عوام کیلئے دستیاب ہے۔ مجھ سے بے شمار افراد ملاقات کرتے ہیں اور کسی کو ملاقات سے روکا نہیں جاسکتا۔ راج بھون‘ پرگتی بھون کی طرح نہیں ہے راج بھون کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں اور کوئی بھی راج بھون آسکتا ہے اور اپنے مسائل پر نمائندگی کرسکتا ہے۔ گورنر نے کہا کہ راج بھون جمہوریت کے عین مطابق کام کررہا ہے۔ر