ارکان اسمبلی خریدی معاملہ میں سپریم کورٹ میں حکومت کو راحت نہیں ملی

   

حکم التواء سے ڈیویژن بنچ کا انکار، 27 فروری کو آئندہ سماعت مقرر
حیدرآباد۔17۔ فروری (سیاست نیوز) ارکان اسمبلی خریدی معاملہ میں تلنگانہ حکومت کو سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ سی بی آئی کو تحقیقات حوالے کرنے سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلہ پر حکم التواء کیلئے تلنگانہ حکومت نے درخواست داخل کی لیکن سپریم کورٹ نے حکم التواء سے انکار کیا۔ حکومت نے اپیل کی کہ سماعت کی تکمیل تک کم از کم سی بی آئی کو کسی کی گرفتاری عمل میں نہ لانے کی ہدایت دی جائے لیکن سپریم کورٹ نے اس اپیل کو قبول نہیں کیا۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ سی بی آئی کو اپنے کنٹرول میں نہیں کیا جاسکتا۔ ڈیویژن بنچ نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 27 فروری کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ارکان اسمبلی خریدی معاملہ کی جانچ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے بجائے سی بی آئی کے حوالے کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس فیصلہ کے خلاف تلنگانہ حکومت نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حکومت کا استدلال ہے کہ اس معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات سے کوئی حاصل نہیں ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے اب تک جو جانچ کی ہے، وہ بے فیض ہوجائے گی۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ دوشنت داوے اور سدھارتھ لوترا نے دلائل پیش کئے۔ ان دونوں نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر حکم التواء کی درخواست کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سی بی آئی کی جانب سے مقدمہ کی فائل حوالے کرنے کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے، لہذا مکمل سماعت اور فیصلہ تک جوں کا توں موقف برقرار رکھا جائے۔ حکومت کے وکلاء نے کہا کہ اگر ایک مرتبہ کیس سی بی آئی کے ہاتھ میں چلا گیا تو پھر واپس لینا مشکل ہوگا۔ سپریم کورٹ نے جوں کا توں موقف کی اپیل کو نامنظور کردیا اور کہا کہ اگر اس کیس میں حکومت کا موقف درست پایا گیا تو ہائی کورٹ کے احکامات کو تبدیل کردیں گے۔ بی جے پی کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ جیٹھ ملانی نے بحث کی ۔ حکومت کے وکلاء نے کہا کہ ملزمین کے خلاف دائر کردہ مقدمہ سنگین نوعیت کا ہے اور اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ بی جے پی کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ چیف منسٹر نے مقدمہ کی تفصیلات سے میڈیا کو واقف کرایا اور چیف منسٹر نے کئی امور کا میڈیا کے روبرو انکشاف کیا ہے ۔ مقدمہ سے متعلق مزید تفصیلات کے منظر عام پر آنے کیلئے سی بی آئی تحقیقات ضروری ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے بھی کئی معاملات میں انکشافات کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ مرکز میں برسر اقتدار پارٹی کے خلاف ثبوت موجود ہے۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے 27 فروری کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ر