سال رواں کسی بھی زبان کے امیدواروں کو داخلہ نہیں دیا گیا ۔ قیمتی اراضی پر لینڈ گرابرس کی نظر
حیدرآباد 16جولائی (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے حیدرآباد میں اساتذہ کی تربیت کیلئے چلائے جانے والے واحد سرکاری ڈائٹ کالج کو بند کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے گذشتہ جنوری میں شرو ع کیا گیا یہ عمل اب انتہاء کو پہنچ رہا ہے کیونکہ جاریہ سال DIET کالج نریڈمیٹ میں کسی بھی زبان کے امیدواروں کو داخلہ نہیں دیا گیا اور سال گذشتہ جو امیدوار سال اول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اب سال دوم کے متعلم ہوچکے ہیں تو اب سال اول ڈائٹ کورس میں کوئی داخلہ نہیں دیا گیا اور آئندہ سال دوم کا کورس مکمل ہونے کے بعد نئے داخلوں کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی ۔ شہر میں اساتذہ کی تربیت کے سلسلہ میں ہر دور میں کوئی نہ کوئی کورس جاری رہا اور 1990 سے متحدہ آندھراپردیش میں اساتذہ کی تربیت کیلئے DIETکورس کی تربیت فراہم کی جاتی تھی اور امیدوار دو سالہ کورس کے بعد ملازمتوں کے حصول میں کامیاب ہوا کرتے تھے لیکن جنوری 2023 میں نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن کی جانب سے اس کورس کو دی گئی مسلمہ حیثیت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیاگیا اور اس پر حکومت کی خاموشی سے اب یہ کالج مکمل طور پر بند ہونے جا رہاہے۔ 2023 جنوری میں حکومت کو اس سے ادارہ کی جانب سے واقف کرواتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حکومت کالج میں امیدواروں کے کورس کے اختتام تک اس کالج کو برقرار رکھے لیکن اس بات کی بھی اجازت دی گئی تھی کہ ڈائٹ کالج میں 100 تلگو پنڈت اور 50 اردو پنڈت کو داخلہ دیا جائے لیکن جاریہ سال یہ اجازت حاصل نہ ملنے سے کسی بھی امیدوار کو ڈائٹ کالج میں داخلہ نہیں دیا گیا جس کے نتیجہ میں یقین ہوچکا ہے کہ یہ ڈائٹ کالج اب بند ہونے جارہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق شہر میں واقع یہ ڈائٹ کالج 13 ایکڑ پر محیط ہے اور بعض لینڈ گرابرس کی نظریں کالج کی انتہائی قیمتی اراضی پر ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ قلب شہر کی اس انتہائی قیمتی اراضی کو حاصل کرسکیں اس کے علاوہ بعض سرکاری عہدیداروں کی جانب سے کالج کی 13 ایکڑ اراضی کو دیگر محکمہ جات اور اداروں کے حوالہ کرنے کی تجاویز پیش کی جارہی ہیں تاکہ محکمہ تعلیم کی یہ اراضی دیگر محکمہ جات کے حوالہ کرکے آمدنی حاصل کی جاسکے۔3