پروفیسر اپوروانند
ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ اور اس جنگ کے نتیجہ میں دنیا بھر میں پھیلی بے چینی کے خلاف بے شمار ممالک آواز اٹھارہے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی میں ہر ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے اور اپنی اس اخلاقی آواز کی بناء پر مشہور ہندوستان کی بولتی بند ہے ۔ ایک بار ضرور ہے کہ دنیا فی الوقت ایک بہت بڑے بحران سے گزر رہی ہے ۔ ایسے میں عالمی سطح پر کوئی ایسی اخلاقی قوت موجود نہیں جو نہ صرف مشرق وسطی بلکہ ساری دنیا میں ہورہی ناانصافیوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بولنے کی جرأت کرے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ایران کا استدلال ہے کہ یہاں سوال صرف جنگ بندی کا نہیں بلکہ جنگ دوبارہ کبھی نہ ہو اس کا ہے اور اس کی ضمانت کون دے گا ؟ دوسری طرف اسرائیل امریکہ کے دباؤ پر لبنان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہوا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی جنگ بندی ہوجائے گی ۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ایران۔اسرائل۔امریکہ عارضی جنگ بندی سے پہلے 8 اپریل کو اسرائیل نے لبنان پر بے شمار فضائی حملہ کئے جن میں 354 سے زائد افراد شہید ہوئے (جن میں 70 بچے اور 31 خواتین شامل ہیں )
اسرائیل کے حملوں میں صرف ایک دن میں گیارہ سو سے زیادہ لبنانی زخمی ہوئے اور وہاں زبردست تباہی بھی دیکھی گئی ۔ اسرائیل نے یہ قتل و غارت گری ایسے وقت کی جب پاکستان کی پہل پر جنگ بندی کا اعلان ہوچکا تھا ۔ لبنان پر اسرائیلی حملہ کے بعد امریکہ کے نائب صدر ڈی وینس نے اسرائیل کی مذمت کرنے کے بجائے یہ کہہ کر لبنان کے تئیں اپنے تعصب و جانبداری کا مظاہرہ کیا کہ اگر لبنان پر اسرائیل کے حملوں کے باعث ایران جنگ بندی سے پیچھے ہٹتا ہے تو یہ ایران کی حماقت ہوگی ۔ باالفاظ دیگر اسے اس کا خمیازہ بھگنے کیلئے تیار رہنا ہوگا ۔ جے ڈی وینس کو تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر کے جنگ بندی سے پیدا ہونے والے امن و سکون کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے ۔ امر یکی نائب صدر کے بیان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود اور دوسرے امریکی لیڈران یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں اور کسی پر بھی حملہ کرنا ان کا پیدائشی حق ہے اور دنیا کو یہ سب برداشت کرنا ہوگا۔ جہاں تک اس جنگ بندی میں پاکستان کی ثالثی اور اس کے کردار کا سوال ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں بحث جاری ہے کہ امریکہ نے ہی ممکن ہے پاکستان کو ثالثی کرنے کے لئے کہا ہو لیکن ایک بات ضرور تھی کہ جنگ میں ایران کی تباہی ہورہی اور امریکہ کی بدنامی اور امریکہ کسی نہ کسی طرح اس جنگ سے خود کو نکالنے بے چین و بے تاب تھا ۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل نے امریکہ کو گھسیٹا تھا سب سے اچھی بات یہ رہی کہ امریکہ اور یوروپ میں جنگ کی شدت سے مخالفت کی جارہی تھی۔ حد تو یہ ہے کہ ماضی میں افغانستان وغیرہ میں امریکہ کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑنے والے ناٹو ممالک (اس کے رکن ممالک ی تعداد 32 ہے) اور امریکہ کے کٹر حلیف برطانیہ نے بھی امریکہ کی بار بار درخواست یہاں تک کہ ڈرانے اور دھمکانے کے باوجود ایران کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ دینے سے صاف انکار کردیا جس پر ٹرمپ نے اپنے حلیف ملکوں کے سربراہان کے خلاف فحش زبان استعمال کرنے شروع کردی جس سے ان کی بوکھلاہٹ کا اندازہ ہونے لگا۔ ٹرمپ کی فحش کلامی کا الٹا ہی اثر ہونے لگا۔ اس جنگ کی ایک اور اہم بات یہ رہی کہ امریکہ پر اقتصادی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ٹرمپ صرف اور صرف تجربات کی زبان استعمال کرنے میں یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کی قیادت میں امریکہ فی الوقت عارضی تجارتی خسارہ برداشت کرنے کے موقف میں نہیں ہے (فی الوقت امریکہ پر تقریباً 40 کھرب ڈالرس کا قرض ہے) ایسے میں اس جنگ کا امریکہ کیلئے بند ہونا بہت ضروری ہوگیا تھا ۔ ٹرمپ نے جنگ کے دوران ہر دن کئی ایک بیانات جاری کئے جو ان کے غرور و تکبر کی غمازی کرتے ہیں ۔ انہوں نے بڑی حقارت کے ساتھ ایران کے حوالے دیتے ہوئے شیخی بگھاری کہ ہم نے ایران میں اقتدار تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ۔ ایران کی فوجی طاقت کو پوری طرح ختم کر کے رکھ دیا ہے لیکن آثار قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے صرف شیخی بگھارنے کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ یہ بات بھی بڑے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ایران کو اسرائیل اور امریکہ نے بڑا کمزور سمجھا تھا اور ان کا خیال تھا کہ ایران میں اقتدار تبدیل کر کے ایرانیوں کو ملک میں انقلاب برپا کروانے کی کامیاب ترغیب دی جائے گی لیکن اسرائیل اور امریکہ نے اس ضمن میں جو خواب دیکھے تھے ، وہ تمام کے تمام چکنا چور ہوگئے ۔ الٹے ایران نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر و ناقابل شکست ہونے کے دعوؤں کو بھی خاک میں ملا کر رکھ دیا اور ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیل میں معمول کی زندگی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ۔ اسرائیل میں فی الوقت افراتفری کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ یہودی عوام عرب اور مسلم دشمنی میں اندھے ہوچکے ہیں کہ وہ خود کو تباہ و برباد کرلینے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں ۔ جہاں تک نتن یاہو کا معاملہ ہے ، وہ خود ملک میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ ایسے میں وہ بڑی عیاری اور مکاری سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے میں نہ صرف کامیاب رہے بلکہ امریکہ کو بھی اس جنگ میں ساتھ لے کر کود پڑے ۔ وہ یہودیوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کے تحفظ کیلئے وہ ناگزیر ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ میں یہ سوال کیا جارہا ہے کہ آیا ایران امریکہ کیلئے خطرہ ہے اور ایران کے خلاف اس نئی جنگ کا مقصد کیا ہے ۔ ایران امریکہ کیلئے نہیں بلکہ اسرائیل کیلئے خطرہ ہے کیونکہ ایران کے بشمول ساری دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ اسرائیل پورے خطہ کیلئے مستقل خطرہ ہے۔ وہ عظیم تر اسرائیل کے خواب کو پورا کرنے کی خاطر ہر ملک کو ہڑپنا چاہتا ہے اور امریکہ اس میں صرف اور صرف اپنا فائدہ تلاش کر رہا ہے ۔ اب بات کرتے ہیں ہندوستانی حکومت کی ۔ ہماری حکومت نے یہ دکھادیا ہے کہ وہ صرف اور صرف طاقتور کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ طاقت کی پوجا کرتی ہے ۔ واضح رہے کہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑے جانے سے ایک دن پہلے ہی مودی جی اسرائیل سے ایک نقلی تعریفی تمغہ لے کر واپس ہوئے تھے اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں، اپنی اخلاقی کمزوری کو وہ یہ کہہ کر جائز ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ خود کو اس جھگڑے میں الجھانا نہیں چاہتا اور اسے اپنے معاشی مفادات سے مطلب ہونا چاہئے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود کو مہذب و معتبر کہنے والے ملکوں کیلئے اس سے بڑھ کر اور شرم کی بات کیا ہوگی کہ جنگ کا آ غاز 153 اسکولی طالبات کے قتل و خون سے کرنے کے باوجود وہ مضطرب نہ ہوسکے لیکن فی ا لوقت معاشی مفاد ان ملکوں کو انسانیت کی یاد دلارہا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں انسانوں یا انسانیت سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ صرف اور صرف اپنے معاشی مفادات ہی ان کیلئے سب سے زیادہ اہم ہیں۔