فلسطینیوں کے حقوق سلب کرنے والے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل
نئی دہلی۔/5 اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیلی سفارتخانہ کے تعاون سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے منعقد کی جارہی کانفرنس برائے میڈیکل انفراسٹرکچر کی مخالفت کرتے ہوئے دانشوروں نے اپیل کی ہے کہ ملک میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا نام معتبر ہے۔ اس ادارہ کو اسرائیلی حکومت کے تعاون سے یہ کانفرنس نہیں کرنی چاہیئے۔ اسرائیل نے لاکھوں فلسطینیوں کے حقوق کو سلب کرلیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کی جانے والی ظلم و زیادتیوں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حکام واقف ہیں اس کے باوجود انہوں نے اسرائیلی سفارتخانہ کی مدد حاصل کرتے ہوئے کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا ہے۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ اسرائیل کے سفارتخانہ نے ہیلت انفراسٹرکچر پر منعقد ہونے والی کانفرنس میں شراکت داری کی ہے جبکہ غزہ پٹی میں 2 ملین افراد کو اسرائیلی فوج نے خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے نقصان پہنچایا تھا۔ اسنیپر بلیٹس کے ذریعہ ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کے ارکان کو ہلاک کیا تھا اور اس کے علاوہ فلسطینیوں کو بنیادی طبی سہولتیں دینے سے بھی انکار کیا ہے اس ملک کی مدد سے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے یونیورسٹی آف بمبئی کانوکیشن ہال میں منعقدہ ہندوتوا اور یہودیت مباحث کے پیش نظر سامنے آئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی پروپگنڈہ کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔