اسرائیل خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتا ہے: یہودی مورخ

   

Ferty9 Clinic

ٹورنٹو : یہودی مورخ یاکوف رابکن نے کہا کہ بین الاقوامی برادری محض تل ابیب کے ‘‘اپنے دفاع کے حق’’ کو مان کر فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم سے آنکھیں بند کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے اسرائیل خود کو مظلومانہ کردار بنا کر پیش کررہا ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کینیڈا کی مونٹریال یونیورسٹی میں تاریخ کے یہودی پروفیسر رابکن نے کہا کہ اسرائیل کو شکاری بننے کا کھیل چھوڑنا چاہئے اور اپنے مجرمانہ ریکارڈ کا سامنا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ نیا نہیں ہے اور کئی سال قبل ایسے ہی حملے ہوتے رہے ہیں جس میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجی طاقتوں کے درمیان طاقت کا واضح عدم توازن رہا ہے۔رابکن جو کہ یہودیوں اور صیہونیت کی تاریخ پر مبنی ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں ، نے کہا کہ فلسطین پر حملوں میں حالیہ اضافہ اسرائیل اور فلسطین کی تاریخ کے بہت سے تکلیف دہ واقعات کی ایک نقل ہے کیونکہ اسرائیل اپنے ظلم و ستم کو جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ (اسرائیلی) وزیر اعظم نیتن یاھو نے غزہ پر حملہ کرنے کا حکم کیوں جاری کیا لیکن مجھے معلوم ہے کہ اس صورتحال سے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اس کے برعکس وہ اسرائیلی معاشرے میں اپنی حمایت حاصل کرتے ہیں اور پولرائزیشن پیدا کرکے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔