اسرائیل معاہدہ سے مکر گیا ، غزہ میں قیدیوں کا نہ جانے کیا حشر ہوگا

   

بیروت: فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کے نتائج کا مکمل ذمے دار اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ تنظیم نے ان حملوں کو نہتے شہریوں کے خلاف “دھوکے پر مبنی جارحیت” قرار دیا۔آج منگل کے روز جاری ایک پریس ریلیز میں حماس نے کہا کہ “اسرائیل فائر بندی معاہدے سے مکر گیا ہے، اس نے غزہ میں اسرائیلی قیدیوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے”۔حماس نے وساطت کار (ممالک) پر زور دیا ہے کہ وہ فائر بندی معاہدے کو توڑنے کی پوری ذمے داری اسرائیل پر عائد کریں۔ تنظیم نے عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کی سپورٹ میں اور غزہ کا محاصرہ ختم کرانے میں “اپنی تاریخی ذمے داری” پوری کریں۔اسی طرح حماس نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے تا کہ اسرائیل کو فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنایا جائے اور قرار داد 2735 پر عمل درآمد کرایا جائے۔ یہ قرار داد لڑائی روک دینے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کا مطالبہ کرتی ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کے خلاف وسیع حملہ کر رہی ہے۔اسرائیل کی جانب سے یہ کارروائی مزید قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بات چیت معطل ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔