ترغمالیوں کو زندہ واپس لانے میں حکومت مکمل ناکام‘پولیس اور احتجاجیوں میں جھڑپیں
تل ابیب : اسرائیل میں 6 یرغمالیوں کی نعشیں ملنے پر مہلوکین کے ارکان خاندان اور ٹریڈ یونین کی اپیل پر پیر کو ملک گیر ہڑتال کی گئی جس میں کاروباری مراکز بند، ٹرانسپورٹ معطل اور سماجی سرگرمیاں منسوخ کردی گئیں۔ اسرائیل میں حالیہ تاریخ کی یہ سب سے بڑی ہڑتال تھی۔ جگہ جگہ احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ہڑتال کے دوران اسرائیل کا مرکزی ہوائی اڈہ بن گوریون ائیر پورٹ میں فلائٹ آپریشن بھی معطل رہا۔مظاہرین نے یرغمالیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار نیتن یاہو کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت یرغمالیوں کو زندہ واپس لانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی حکومت اب تک جنگ بندی معاہدے کو بھی طے نہیں کر پائی ہے جو یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی اور امن کی ضامن ہو۔اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے متحرک فورم کے رہنما نے کہا کہ اس وقت ایک معاہدہ کسی بھی چیز سے بڑھ کر ہے لیکن ہمیں ’’ڈیل‘‘ کے بجائے باڈی بیگ مل رہے ہیں۔جگہ جگہ بینرز آویزاں کیے گئے جن میں وزیراعظم نیتن یاہو سے حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ کرنے اور یرغمالیوں کی جلد از جلد واپسی کا مطالبہ کیا گیا ۔کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاع ہے۔ غزہ کے علاقے رفح سے 6 یرغمالیوں کی نعشیں ملنے کے بعد اْن کے ارکان خاندان اور متعلقہ گروپس نے اتوار کی رات ملک بھر میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ حماس سے اسرائیلی یرغمالیوں کی بازیابی کیلئے متحرک گروپس اور فورمز نے 6 یرغمالیوں کی نعشیں ملنے پرشدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا ہیکہ نیتن یاہو اور ان کی حکومت نے یرغمالیوں کو مرنے کیلئے اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے فورم کے نمائندوں نے کہا کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔اس حکومت سے اب کوئی توقع نہیں رہی۔اس احتجاج سے حماس کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے ۔احتجاجیوں کا الزام ہے کہ معاہدہ کرنے میں تاخیر کے باعث ان کے ارکان خاندان کی ہلاکت ہوئی ہے ۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ رفح کے علاقے میں ایک سرنگ سے 6 یرغمالیوں کی نعشیں ملی ہیں جنھیں فوج پہنچنے سے قبل قتل کردیا گیا جن میں ایک یرغمالی خاتون امریکی نژاد بھی ہے۔