اسرائیل پر جوابی حملہ نہ کرنے ایران کو امریکی دھمکی

   

واشنگٹن: اسرائیل کی طرف سے ایران پر کیے گئے حالیہ اسرائیلی حملے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی امریکہ ایران پر ہی برس پڑا۔ سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایران پر اسرائیلی حملے کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا۔ایران نے بھی اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی کہ فوری طور پر اجلاس بلایا جائے اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت کی جائے۔ تاہم اس اجلاس کے انعقاد کے بعد امریکہ کی طرف سے ایران کو واضح اور دو ٹوک کہہ دیا گیا ہے’ اگر ایران نے اسرائیل کو اس حملے کا جواب دینے کی کوشش کی، اسرائیل یا امریکہ کے مشرق وسطیٰ میں فوجیوں کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔’سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندہ لنڈا تھامس نے کہا ‘ ہم بھی اپنے دفاع کے لیے اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔ اس لیے اس بات کو واضح طور پر سمجھا دینا چاہتے ہیں تاکہ کوئی غلط فہمی یا الجھن نہ رہے۔’ امریکہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ مزید کشیدگی نہیں چاہتا ، ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست بمباری حملوں کے بعد اسے اب رک جانا چاہیے۔ ایرانی سفیر امیر سعید اروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کے بارے میں براہ راست کہا’ امریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کی فوجی امداد کر کے براہ راست اس جارحیت میں ایک مشکل میں آ گیا ہے۔جبکہ ایران کی طرف سے مستقل اور متواتر سفارت کاری کی حمایت کی ہے۔ مگر اب ایک خودمختار ریاست کے طور پر، اسلامی جمہوریہ ایران اس جارحانہ اقدام کا جواب دینے کا اپنے ازلی حق محفوظ رکھتا ہے۔
‘اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے فوجی اور اقتصادی ڈھانچے کو کنٹرول کرنے کے لیے ایران کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرے اور ایران کی اس پاگل حکومت کو نیوکلیئر صلاحیتوں کے حصول سے روکنے کے لیے بھی ضروری اقدامات کرے۔انہوں نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کو نپا تلا اور متناسب قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے دفاع کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔اسرائیلی سفیر ڈینن نے سلامتی کونسل کو کھلے لفظوں میں بتادیا مزید کسی بھی جارحیت کے بھی نتائج برآمد ہوں گے، اگلا جواب تیز اور فیصلہ کن ہوگا۔ تاہم انہوں یہ بھی کہا اسرائیل جنگ نہیں چاہتا۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں چین کے سفیر فوکانگ نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا ‘ زندگیاں بچانے اور جنگ روکنے کی کوشش کی جائے۔ نیز سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ میں ایک فوری جنگ بندی کی کوشش کو آگے کیا جائے۔ نیز اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی اور لڑائی کو کم کیا جائے۔