واشنگٹن ۔26 ڈسمبر (ایجنسیز) ایک امریکی ذریعے نے جمعہ کو اسرائیلی ٹی وی چینل 12کو دیئے گئے بیان میں تل ابیب پر غزہ معاہدہ کے دوسرے مرحلہ کی فنڈنگ اور نفاذ میں ٹال مٹول سے کام لینے کا الزام لگایا ہے، نیز اس پر کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ ذریعے نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ 29 دسمبر کو واشنطن کے دورے کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ضبطِ نفس اور جنگ بندی کی پاسداری کا مطالبہ کریں گے۔ مزید یہ کہ ٹرمپ ان کے سامنے جنگ بندی کے بعد سے اب تک غزہ میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بھی رکھیں گے۔دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے ایک اسرائیلی اہل کار کی بات نقل کی ہے کہ بنیامین نیتن یاہو غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے مشیروں کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ اسی حوالے سے اسرائیلی ذرائع نے اخبار “اسرائیل ہیوم” کو بتایا ہے کہ اس ماہ کی 29 تاریخ کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور بنجامن نیتن یاہو کی ملاقات کے بعد متوقع مشترکہ اعلامیہ میں دو اداروں کے قیام کا اعلان متوقع ہے:پہلا صدر ٹرمپ کی سربراہی میں ’امن کونسل‘، جس میں بین الاقوامی شخصیات اور قائدین شامل ہوں گے۔دوسرا ایک نئی ’سول گورننگ اتھارٹی‘ جو زیادہ تر ایسے فلسطینیوں پر مشتمل ہوگی جو پہلے فلسطینی اتھارٹی میں عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔دریں اثنا، غزہ میں انسانی صورت حال کے حوالے سے اسرائیل کی جانب سے طے شدہ ایندھن کی فراہمی روکنے کے بعد وسطی غزہ پٹی میں نصیرات کیمپ کے العودہ ہسپتال کی بجلی منقطع ہو گئی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مختلف شعبوں میں طے شدہ آپریشنوں کو روکنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ تاہم استقبالیہ، ایمرجنسی اور زچگی کے شعبوں میں طبی خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔غزہ پٹی میں انسانی سطح پر بھوک بھی فلسطینیوں کی جانیں لے رہی ہے۔ غذائی تحفظ کی تازہ ترین رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ جنگ رکنے سے بظاہر قحط میں کمی آئی ہے، لیکن آبادی کا تین چوتھائی سے زائد حصہ اب بھی غذائی عدم تحفظ کا شدید شکار ہے۔ امریکہ نے غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق مسلسل بیانات پر اسرائیل پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عرب ممالک کو ممکنہ امن عمل سے دور کر رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اعلیٰ سطحی ذرائع نے اسرائیلی حکومت، خصوصاً وزیر دفاع یسرائیل کاتز کے حالیہ بیانات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔وائٹ ہاؤس سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبہ کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور علاقائی تعاون کو متاثر کر رہے ہیں۔یسرائیل کاتز نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آبادکاری کے مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم امریکی اعتراض کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد عارضی فوجی رہائشی مراکز تھے۔ اس کے باوجود بعد ازاں انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے کبھی مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے گی۔یہ بیانات وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے مؤقف سے ہم آہنگ سمجھے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی سیاسی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کا ارادہ ہے کہ وہ امریکی صدر سے ملاقات میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان ایک مستقل سرحد کی منظوری حاصل کریں، جس کے تحت غزہ کے بڑے حصے پر اسرائیلی کنٹرول قائم رکھا جائے گا۔نیتن یاہو کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے غزہ میں فوجی موجودگی میں اضافہ کو سکیورٹی کی ضرورت قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول غزہ کا رقبہ حالیہ عرصے میں مزید بڑھ چکا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر پر 14 ممالک کی جانب سے ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعتراضات جانبدارانہ اور امتیازی نوعیت کے ہیں۔
