بیروت : اسرائیل نے غزہ پٹی میں حماس کے ساتھ مذاکرات دوسرے مرحلے کے لیے معطل کر دیے ہیں جب تک کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 9 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی طے نہیں ہو جاتی۔اسرائیلی وزیر اعظم کے پریس دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے تحریری بیان میں ایک نامعلوم عہدیدار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل توقع کرتا ہے کہ حماس ان 9 زندہ قیدیوں کے حوالے کرے گی جنہیں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں آنے والے دنوں میں رہا کیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے مذاکرات میں اس وقت تک حصہ نہیں لے گا جب تک کہ زیر بحث 9 قیدیوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔اسرائیلی وزیر اعظم ب ن یامین نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اگر حماس نے ہفتہ کی دوپہر تک ہمارے قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو جنگ بندی ختم ہو جائے گی اور اسرائیل اپنے شدید حملے دوبارہ شروع کر دے گا جو اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک حماس کو شکست نہیں ہو جاتی۔’حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل، جو 15 فروری کو ہونا تھا، اس بنیاد پر معطل کر دیا گیا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی معاہدہ کے تحت اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے۔