وہ سمجھتے ہیں کہ حالات سے ڈر جائیں گے
اور کیا ہوگا، یہی ہوگا کہ مر جائیں گے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں انتہائی بہیمانہ کارروائی کرتے ہوئے خود کش دھماکہ کیا گیا جس میں تقریبا 70 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے اور 170 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا بھی اندیشہ لاحق ہے ۔ یہ بہیمانہ کارروائی انتہائی شرمناک حرکت تھی جو ایک مسجد کو نشانہ بناتے ہوئے کی گئی ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ویسے تو ہر طرح کی ہلاکت خیز کارروائی کی کوئی گنجائش یا جواز نہیںہوسکتا تاہم خاص طور پر مذہبی عبادتگاہوں کونشانہ بنانے والی کارروائیاں زیادہ افسوسناک اور شرمنا ک ہوتی ہیں ۔دنیا کا کوئی بھی مذہب اس طرح کی بہیمانہ اور غیر انسانی حرکت کی قطعی اجازت نہیں دیتا اور بے گناہ افراد کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے ۔ درجنوں افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والی یہ کارروائی انتہائی شرمناک کہی جاسکتی ہے اور یہ بالکل غیر اسلامی حرکت ہے کیونکہ اسلام نے کبھی بھی اس طرح کے قتل و خون اور غارت گری کی اجازت ہرگز نہیں دی ہے ۔ اس کے علا خود کو ہلاکت میں ڈالنے والے خود کش حملے بھی ناقابل قبول ہی ہیں اور ان کا بھی کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کو مذہب نے درست قرار دیا ہے ۔ ہر دو صورت میں اسلام آباد میں ہوا خود کش دھماکہ انتہائی بہیمانہ ‘ بزدلانہ اور غیر شرعی کارستانی تھی اور جس کسی نے یہ کارروائی انجام دی ہے انہیں کیفر کردار تک پہونچانے کی ضرورت ہے ۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جانی چاہئے اور انہیں عبرتناک سزائیں دلائی جانی چاہئیں تاکہ دوسروں کی حوصلہ شکنی ہوسکے اورمستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ ہونے نہ پائے ۔ مذہب نے دلوںکو جوڑنے کا پیام دیا ہے ۔ انسانیت کی خدمت کرنے کا حکم دیا ہے ۔ لوگوں کی تکالیف اور مسائک کو دور کرنے کی ہدایت دی ہے اور محبت و اخوت کا درس دیا ہے اس کے باوجود اس طرح کی کارروائی اور ایک مذہبی مقام کو نشانہ بناتے ہوئے کرنا قطعی قابل قبول نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی دنیا کے کسی بھی مہذب سماج میں کوئی اجازت ہوسکتی ہے ۔ ایسا کرنے والے غیر اسلامی حرکتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
پاکستانی معاشرہ کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوجائے گا کہ وہ مذہبی شدت پسندی کو فروغ دیا گیا ہے ۔ خود حکومت کی پالیسی رہی ہے کہ وہ تخیرب کاروں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے ۔ مخالفین کے خلاف بالواسطہ جنگ بھی پاکستانی حکومت اورفوج نے شروع کر رکھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اثرات خود پاکستانی معاشرہ پر مرتب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مذہبی مقامات کو تک نہیں بخشا جا رہا ہے ۔ عوامی مقامات پر بھی حملے کئے جارہے ہیں اور کچھ وقت قبل ایک سشن عدالت میں تک دھماکہ کیا گیا تھا جس میں ایک درجن لوگ مارے گئے تھے ۔ یہ واقعات مذہبی شدت پسندی کو ظاہر کرتے ہیں اور پاکستان کی جانب سے دہشت گردوںا ور تخریب کاروں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ جو سرکاری پالیسی رہی ہے اس کے معاشرہ پر اثرات ہونے فطری بات ہے اور پاکستان میں یہ اثرات بہت زیادہ ہوگئے ہیں اور اس کے نتیجہ میں مذہبی مقامات کوبھی محفوظ نہیںسمجھا جاسکتا ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ چاہے حکومت پاکستان ہو یا پھر پاکستانی فوج ہو ۔ اس طرح کے واقعات کے تدارک کیلئے موثر اور جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس معاملہ میں تن آسانی یا فرقہ وارانہ تعصب سے کام لیا جاتا ہے تو پھر اس کے مزید گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور اس کی ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوسکتی ہے ۔ فوج کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
مذہبی رواداری اور بھائی چارہ کو اسلام نے بہت اہمیت دی ہے اور دنیا کے تقریبا ہر مذہب نے اسی روایت کو فروغ دیا ہے ۔ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ ضرور ہوسکتے ہیں اور اس کی گنجائش بھی ضرور ہوتی ہے تاہم یہ اختلاف صحتمند ہونا چاہئے ۔ تخریب کارانہ نظریات کو اس کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہئے ۔ اسلام آباد میں جو کارروائی کی گئی ہے وہ قابل مذمت ہے اور اس کی جتنی مذہب کی جائے کم ہے ۔ پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے واقعات کے تدارک پر توجہ مرکوز کرے اور معاشرہ میں شدت پسندی اور فرقہ وارانہ عصبیت کو ختم کرنے کے اقدامات کرے ورنہ قتل و خون اور غارت گری کا سلسلہ لامتناہی شکل اختیار کر جائے گا ۔