ذیابطیس ‘ امراض قلب اور کینسر کا عارضہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ جسمانی مشقت پر توجہ ضروری ۔ ریسرچ میں انکشافات
حیدرآباد 30 جولائی ( ایجنسیز ) ریسرچ ماہرین نے پتہ چلایا ہے کہ جو طلبا یومیہ اپنا اسمارٹ فون پانچ گھنٹے یا اس سے زائد استعمال کرتے ہیں ان میں موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ معمولات زندگی میں تبدیلیوں کے نتیجہ میں امراض قلب کے خطرہ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ایک مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ ریسرچ کرنے والوں نے تقریبا 1,060 طلبا کا جائزہ لیا گیا جن میں 700 لڑکیاں اور 360 لڑکے شامل تھے ۔ یہ جائزہ کولمبیا میں ہوا ہے اور ان کی عمریں 19 اور 20 سال بتائی گئی ہیں۔ اس مطالعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ عام لوگوں کو یہ جاننا ضروری ہے کہ یقینی طور پر یہ اپنے ہمہ مقصدی استعمال ‘ انگلیوں کے اشارے پر دستیابی ‘ بے شمار خدمات تک رسائی ‘ اطلاعات کے حصول اور تفریح طبع کے علاوہ اس کا استعمال عادات زندگی کو بہتر بنانے اور صحت مند طریقہ کار اختیار کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جانا چاہئے ۔ اس مطالعہ میں پتہ چلا ہے کہ اگر ایک دن میں اسمارٹ فون کا پانچ گھنٹے یا اس سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے توموٹاپے کا خطرہ 43 فیصد تک بڑھ جاتا ہے ۔
اس کے علاوہ ایسا کرنے والے طلبا میں میٹھے مشروب ‘ فاسٹ فوڈ ‘ مٹھائیوں اور اسناکس کے استعمال کا رجحان دوگنا ہوجاتا ہے اور ان کی جسمانی سرگرمی اور مشقت گھٹ جاتی ہے ۔ ریسر چکرنے والوں نے پتہ چلایا ہے کہ 26 فیصد طلبا جن کا وزن معمول سے زیادہ تھا اور 4.6 فیصد طلبا جو کافی موٹے تھے وہ یومیہ پانچ گھنٹوں سے زیادہ وقت تک اپنا اسمارٹ فون استعمال کیا کرتے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ زیادہ وقت تک موبائیل فون استعمال کرنے کے نتیجہ میں سستی پیدا ہوجاتی ہے اور جسمانی مشقت اور محنت کا دورانیہ بھی گھٹ جاتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی مشقت کی کمی کے نتیجہ میں ذیابطیس اور امراض قلب کا عارضہ لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے جان بھی جاسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ کینسر کا عارضہ بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون کا استعمال اب کسی کی مرضی پر منحصر نہیں رہ گیا ہے بلکہ یہ ضرورت بن گئی ہے تاہم اسے زیادہ وقت کیلئے استعمال کرنا صحت کیلئے مضر ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ بہتر طریقہ کار یہی ہے کہ اپنے آپ کو فون کے استعمال سے ممکنہ حد تک روکیں۔ جسمانی مشقت کے کاموں پر زیادہ وقت صرف کریں۔ ورزش اور یوگا وغیرہ کیا جائے ۔
