اسمارٹ نگرانی سسٹم کی مدد سے حجاب نہ کرنے پر سزا

   

تہران: ایران میں اسمارٹ سی سی ٹی وی کیمرہ سے نگرانی کے سسٹم پر عمل درآمد کرتے ہوئے حجاب نہ کرنے والی کئی خواتین کو پکڑا گیا ہے۔ایران میں انسانی حقوق کارکنوں کی تنظیم (ایچ آر اے آئی) نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی ایک فوجداری عدالت نے ایک خاتون کو اسمارٹ سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعہ باخبر رہنے کے بعد حجاب کی خلاف ورزی پر قید کی سزا سنائی ہے۔تنظیم نے بتایا کہ تہران کی فوجداری عدالت کی برانچ 1088 نے نامعلوم خاتون کو حجاب کے لازمی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر سزا سنائی۔ اس خاتون کو ممکنہ ایران مخالف رویے کا حوالہ دیتے ہوئے دو سال کی سفری پابندی اور دو ماہ قید کی سزا دی گئی۔عدالتی فیصلے کے دوران جج علی اومیدی نے دعووں کی حمایت کیلئے عوامی اسمارٹ سکیورٹی کیمروں کے استعمال کا حوالہ دیا۔ خاتون کو دماغی صحت کے معائنے کا بھی حکم دیا گیا۔ بے حجاب خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش میں ایسے کیمروں کو ثبوت کے طور پر استعمال کرنے کی یہ پہلی معلوم مثال ہے۔ایچ آر اے آئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حجاب پہننے سے انکار کو مجرمانہ قرار دینا خواتین اور لڑکیوں کے اظہار رائے کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔خیال رہے 16 ستمبر 2022 کو مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے پورے ایران کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مہسا کو حجاب نہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا اور متعدد مظاہرین کو پھانسی دی جا چکی ہے۔اپریل میں ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ کس طرح ایران میں حکام حجاب نہ پہننے والی خواتین کی شناخت اور سزا کیلئے عوامی مقامات پر کیمرے نصب کر رہے ہیں۔