اسمبلی اجلاس میں کے سی آر کی شرکت کا امکان، قائدین سے مشاورت

   

ارکان اسمبلی کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ،سینئر قائدین نے اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیا
حیدرآباد 22 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کا اجلاس 23 جولائی سے شروع ہوگا ۔ اجلاس میں قائد اپوزیشن کے چندرشیکھر راؤ کی شرکت پر صورتحال واضح نہیں ہے۔ ابتداء میں کہا جارہا تھا کہ کے سی آر اسمبلی اجلاس میں بی آر ایس ارکان کی قیادت کرکے عوامی مسائل بالخصوص انتخابی وعدوں کی عدم تکمیل پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کریں گے۔ حالیہ عرصہ میں بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی نے انحراف کرکے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ تلنگانہ اسمبلی میں بی آر ایس ارکان کی تعداد 38 سے گھٹ کر 28 ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مزید ارکان اسمبلی آئندہ دنوں میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کے سی آر اپنے ساتھیوں کے انحراف سے دلبرداشتہ ہیں اور وہ برسر اقتدار پارٹی کی تنقیدوں کا سامنا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ اُنھوں نے اسمبلی میں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو اہم ذمہ داری دی ہے تاکہ وہ ارکان اسمبلی کی قیادت کریں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے آج قریبی ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین سے مشاورت کی اور اسمبلی کی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین نے کے سی آر کو اسمبلی اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیا۔واضح رہے کہ کے سی آر نے اسمبلی چناؤ کے بعد ارکان کی حلف برداری کیلئے اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ کولہے کی تبدیلی کے آپریشن کے نتیجہ میں وہ اجلاس کے بجائے اسپیکر کے چیمبر میں حلف لینے پہونچے تھے۔ کے سی آر نے فبروری میں منعقدہ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی کیونکہ ڈاکٹرس نے اُنھیں سرجری کے بعد آرام کا مشورہ دیا تھا۔ سابق چیف منسٹر نے لوک سبھا چناؤ کی انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا لیکن نتائج نے اُنھیں مایوس کردیا۔ بی آر ایس کو ایک بھی لوک سبھا نشست پر کامیابی نہیں ملی اور 10 ارکان اسمبلی نے انحراف کرکے ایوان میں پارٹی کا موقف کمزور کردیا ہے۔ ان حالات میں کے سی آر کے قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ سابق چیف منسٹر اسمبلی بجٹ سیشن میں شاید شریک نہ ہوں۔ واضح رہے کہ اسمبلی میں کانگریس ارکان کی تعداد بڑھ کر 75 ہوچکی ہے۔ اِسی دوران بی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کے منصوبے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بجٹ سیشن سے قبل بی آر ایس کے 26 ارکان کی شمولیت کے ذریعہ لیجسلیچر پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاحال بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی کانگریس میں شامل ہوئے جبکہ لیجسلیچر پارٹی انضمام کیلئے 26 ارکان کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کے بیشتر ارکان اسمبلی نے شمولیت کیلئے شرائط رکھی ہیں۔ دو ارکان اسمبلی نے کابینہ میں شمولیت کی شرط رکھی۔ اِن حالات میں بی آر ایس لیجسلیچر پارٹی کے انضمام کو اسمبلی سیشن کے بعد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 16 ارکان اسمبلی سے کانگریس قائدین ربط میں ہیں اور اگر تمام 16 ارکان شامل ہوتے ہیں تو کانگریس کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے بھی بی آر ایس کے بعض ارکان اسمبلی کو شمولیت کی ترغیب دی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے بعد چیف منسٹر کا منصوبہ کس حد تک کامیاب رہے گا۔ 1