نیا لباس ، حقیقت بدل نہیں سکتا
مگر یہ راز فقط آئینہ بتاتا ہے
ملک کی پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابی نتائج آج سامنے آگئے ۔ چار ریاستوں میں جہاں بی جے پی کا اقتدار تھا بی جے پی نے بڑی آسانی سے اپنا اقتدار بچالیا ہے جبکہ پنجاب میں کانگریس پارٹی اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب نہیں ہو پائی ہے اور وہاں عام آدمی پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہلی کے بعد دوسری ریاست میں اقتدار حاصل کرلیا ہے ۔ اترپردیش ‘ اترکھنڈ ‘ گوا اور منی پور میں جو انتخابی مہم چلائی گئی تھی اس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ بی جے پی کو ان ریاستوں میں مشکل ہوگی ۔ کم از کم اترکھنڈ اور گوا میں اس کا اقتدار ختم ہوجائے گا اور شائد یہاں کانگریس واپسی کرے گی ۔ پنجاب میں یہ کہا جا رہا تھا کہ کانگریس کو عام آدمی پارٹی سے کانٹے کی ٹکر ہے اور کوئی بھی جماعت اقتدار کے جادوئی ہندسہ تک پہونچ سکتی ہے تاہم عام آدمی پارٹی نے وہاں کانگریس کو چاروں شانے چت کردیا ہے ۔ اترپردیش میںساری جوڑ توڑ اور کوشش کے باوجود اکھیلیش یادو بی جے پی کے جادو کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو پائے ہیں۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کرتے ہوئے سماجی تانے بانے بننے کی کوشش کی تھی لیکن یہ کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔ تین سو یونٹ بجلی مفت ‘ نوجوانوں کو روزگار ‘ ترقیاتی اقدامات اور کئی وعدے کئے گئے تھے لیکن ان تمام وعدوں پر ہندوتوا کی سیاست نے غلبہ حاصل کرلیا ہے ۔ کورونا بحران کے وقت سے دیا جانے والا مفت راشن اور یوگی ۔ مودی کی ہندوتوا کشش نے تمام مسائل کو کہیں پس پشت ڈال دیا ہے ۔ نہ مہنگائی کا مسئلہ کوئی اثر کرسکا ہے اور نہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں عوام کیلئے کوئی مسئلہ رہ گئی ہیں۔ بیروزگاری کی فکر اب نوجوانوں کو بھی لاحق نہیں رہ گئی ہے ۔ وہ ہندوتوا مسائل میں اور گودی میڈیا کے پروپگنڈہ والی مہم کا اثر قبول کرچکے ہیں۔ عوامی مسائل پر شخصیت پرستی کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے اور بی جے پی نے اترپردیش میں اپنا اقتدار واضح اکثریت کے ساتھ برقرار رکھا ہے ۔ حالانکہ سماجوادی پارٹی کی نشستیں پہلے سے دوگنی سے زیادہ ہوگئی ہیں لیکن وہ اقتدار پر واپسی کرنے اور عوام کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔
کانگریس پارٹی نے جو محنت کی ہے اس کے اثرات بھی دیکھنے میں نہیں آئے ہیں اور وہ صرف تین نشستوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کیلئے یہ نتائج حوصلہ شکن کہے جاسکتے ہیں کیونکہ آئندہ عام انتخابات کیلئے اب دو سال کا وقت رہ گیا ہے اور پانچ ریاستوں کے نتائج سے اپوزیشن کے حوصلے پست اور بی جے پی کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں۔ اترپردیش کے نتائج کو عام انتخابات کا سیمی فائنل قرار دیا جا رہا تھا اور سیمی فائنل میں بی جے پی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپوزیشن کے عزائم کو عملا ناکام کردیا ہے ۔ اب اپوزیشن کو ایک بار پھر صفر سے شروعات کرنی پڑے گی اور اس کا سفر آسان نہیں بلکہ مزید مشکل ہوگیا ہے ۔ اب تمام جماعتیں اپنی اپنی شکست کی وجوہات کا جائزہ لیں گی اور نت نئی وجوہات پیش کرتے ہوئے عوام میں اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کرینگی لیکن یہ طریقہ کار ہندوستان کی موجودہ سیاست میںکارگر ثابت ہونے والا نہیں ہے ۔ بی جے پی کو عوام کی نبض سمجھنے میں کامیابی ملی ہے اور اپنے پروپگنڈہ کو عوام کے ذہنوں میں انڈیلنے کیلئے اس کے پاس میڈیا کی طاقت بھی ہے ۔ میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو غیرجابنداری سے نبھانے کی بجائے حکومت کے ایجنڈہ کو عوام کے ذہنوں میں پیوست کرنے کی مہم میں مصروف ہے اور وہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کیلئے اترپردیش اور دوسری ریاستوں کے نتائج لمحہ فکریہ ہیں اور انہیں اپنی حکمت عملی پر غور کرنا چاہئے ۔
پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی کامیابی بھی کانگریس کے دم توڑتے وجود کو مزید مردہ کردینے والی قرار دی جاسکتی ہے ۔ کانگریس کیلئے عوام کی نبض کو سمجھنے کیلئے اب نئے سرے سے شروعات کرنی چاہئے ۔ ایک طئے شدہ فارمیٹ کے تحت کام کرنا اب کارگر نہیں ہوسکتا ۔ مہنگائی کا مسئلہ ہو یا بیروزگاری کا مسئلہ ہو یا پھر خواتین کی حفاظت ہو یا ملک کی ترقی ہو یہ تمام مسائل ایک طرح سے اب پس منظر میں چلے گئے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایک بار پھر ملک کے عوام کو ان مسائل پر واپس لانے کی کوششیں جاری رہیں گی یا نہیں اور اگر جاری رہتی بھی ہیں تو ان کی کامیابی کے تعلق سے کوئی پیش قیاسی یقین سے نہیں کی جاسکتی ۔
