اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس… جھلکیاں

   

گورنر اور چیف منسٹر خوشگوار موڈ میں
حیدرآباد 3 فروری (سیاست نیوز) ایک سال سے زائد عرصہ سے گورنر اور چیف منسٹر کے درمیان کشیدگی کی برف آج اسمبلی میں پگھلتی ہوئی دکھائی دی۔ مشترکہ اجلاس سے خطاب کے لئے گورنر سوندرا راجن جیسے ہی اسمبلی پہونچیں ، چیف منسٹر کے سی آر نے اُن کا والہانہ استقبال کیا اوردونوں کے درمیان مسکراہٹوں اور خیرسگالی الفاظ کا تبادلہ کشیدگی کے خاتمہ کا اشارہ دے رہا تھا۔ صدرنشین قانون ساز کونسل سکھیندر ریڈی، اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی، وزیر اُمور مقننہ پرشانت ریڈی اور سکریٹری لیجسلیچر نرسمہا چاریلو نے گورنر کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے اسمبلی آمد پر خوشامدید کہا۔
ہر پارٹی کے ارکان اپنے رنگ میں
٭ اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں ہر پارٹی اپنے رنگ میں دکھائی دی۔ برسر اقتدار بی آر ایس کے تمام ارکان اسمبلی گلابی کھنڈوا اپنے گلے میں پہنے ہوئے تھے۔ کانگریس کے ارکان نے اپنی پارٹی کا کھنڈوا ڈال رکھا تھا جبکہ بی جے پی کے تین ارکان زعفرانی رنگ کے کھنڈوے کے ساتھ اپنی علیحدہ شناخت بنائے ہوئے تھے۔ اصل اپوزیشن مجلس اتحاد المسلمین کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی اجلاس سے غیر حاضر رہے جبکہ پارٹی کے ارکان نے شیروانی زیب تن کی تھی۔
٭ اجلاس کا آغاز اگرچہ 12-10 بجے دن تھا لیکن نصف گھنٹہ قبل سے بی آر ایس ارکان کی ایوان میں آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وزراء میں محمد محمود علی، نرنجن ریڈی اور سرینواس یادو کے علاوہ سبیتا اندرا ریڈی سب سے پہلے ایوان میں داخل ہوئے۔
ایوان میں ارکان سے خوشگوار سامنا،
تلگو اشعار کا استعمال
٭ گورنر سوندرا راجن ٹھیک 12بجکر 07 منٹ پر چیف منسٹر، اسپیکر اور صدرنشین کونسل کے ہمراہ ایوان میں داخل ہوئیں۔ اُنھوں نے ایوان کے دونوں جانب موجود ارکان کو ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا۔ یہ مرحلہ انتہائی دلچسپ تھا کیوں کہ کل تک بی آر ایس کے کئی ارکان گورنر کو نشانہ بنارہے تھے لیکن آج وہ تمام استقبال کے لئے کھڑے تھے۔
قومی ترانے کی دھن ، تقریر کے آخر میں جئے تلنگانہ اور جئے ہند
٭ گورنر کی آمد اور خطبہ کے اختتام کے فوری بعد قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔ گورنر نے تقریر کا آغاز انقلابی شاعر کالوجی نارائن راؤ اور خطبہ کے اختتام پر مشہور شاعر داسیردھی کے تلگو اشعار سے کیا۔ گورنر نے تقریر کا اختتام جیہ جیہ ہے تلنگانہ، جئے تلنگانہ اور جئے ہند سے کیا۔ گورنر کے خطبہ کے دوران برسر اقتدار پارٹی کے ارکان اور وزراء بار بار میزیں تھپتھپاکر اظہار خوشنودی کررہے تھے۔ جب کبھی کسی طبقہ کی بھلائی کا ذکر ہوتا تو اُس طبقہ کے ارکان میزیں تھپتھپاکر خیرمقدم کرتے لیکن جب اقلیتی بہبود کا ذکر آیا تو صرف وزیرداخلہ محمد محمود علی کو تنہا میز تھپتھپاتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ دیگر ارکان خاموش رہے۔
اپوزیشن ارکان سے گورنر کی خیرسگالی
٭ گورنر کے خطبہ کا 12-10 بجے آغاز ہوا اور 12-40 بجے خطبہ اختتام کو پہونچا۔ گورنر نے انگریزی میں خطاب کیا۔ خطبہ کے بعد ایوان سے واپسی کے وقت چیف منسٹر کے سی آر نے گورنر کو اپوزیشن ارکان کی نشستوں کی جانب توجہ دلائی، جس پر سوندرا راجن ایک قدم بڑھ کر اپوزیشن ارکان کو نمستے کیا۔ وہ واپسی کے دوران دونوں جانب موجود ارکان کے استقبال کا جواب دے رہی تھیں۔ اسمبلی آمد اور روانگی تک گورنر انتہا خوشگوار موڈ میں دکھائی دیں۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے مشترکہ سیشن سے خطاب میں کامیابی پر وہ خوش ہیں۔ ر