کے سی آر کے فارم ہاؤز پر حملہ کی مذمت ، پوڈیم کے پاس دھرنا، ایوان کی کارروائی میں مسلسل خلل
حیدرآباد۔9۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی مانسون سیشن کے تیسرے دن ہنگامہ آرائی اور ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے پر بی آر ایس کے 22 ارکان اسمبلی کو سیشن کے باقی ایام تک معطل کردیا گیا۔ وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے اسپیکر کے پوڈیم کے پاس دھرنا دینے والے بی آر ایس ارکان کی معطلی کی قرارداد پیش کی جسے اسپیکر نے منظوری دیتے ہوئے احتجاجی ارکان کی اسمبلی اجلاس کے باقی ایام تک معطلی کا اعلان کیا۔ معطل کئے گئے ارکان میں کے ٹی آر ، ہریش راؤ ، جگدیش ریڈی ، کملاکر ، کوشک ریڈی ، ایم کرشنا راؤ ، شریمتی کے لکشمی ، مانک راؤ ، چنتا پربھاکر ، کے پربھاکر ریڈی ، پرشانت ریڈی ، ایم راج شیکھر ریڈی ، سبیتا اندرا ریڈی ، سدھیر ریڈی ، سنیتا لکشما ریڈی ، کے وینکٹیش ، وجیڈو، کے پی ویویکانند ، کے سنجے ، ٹی سرینواس یادو اور انیل جادھو شامل ہیں۔ ایوان کی کارروائی کا صبح 10 بجے جیسے ہی آغاز ہوا ، بی آر ایس اور بی جے پی کے ارکان نے اپنے اپنے پیش کردہ تحریکات التواء پر مباحث کی مانگ کرتے ہوئے نعرہ بازی شروع کردی۔ بی آر ایس نے کے سی آر کے فارم ہاؤز پر کانگریس قائدین کے مبینہ حملے اور پولیس کی جانب سے خاتون ارکان اسمبلی کی توہین کے مسئلہ پر مباحث کا مطالبہ کیا ۔ بی جے پی نے اراضی تنازعہ اور طلبہ کے فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر تحریک التواء پیش کی ۔ بی آر ایس ارکان اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچ گئے اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ کے ٹی آر کی قیادت میں وی وانٹ جسٹس اور نہیں چلے گی نہیں چلے گی تانا شاہی نہیں چلے گی جیسے نعرے لگائے۔ اسپیکر پرساد کمار نے ارکان سے نشستیں سنبھالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے پوڈیم پر احتجاج کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ مباحث کے لئے تحریری طور پر درخواست دیں جس پر وہ غور کریں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے الزام عائد کیا کہ اسپیکر اور ان کی ماں کی توہین کرنے والے بی آر ایس قائدین کو آخر کس بات پر انصاف چاہئے ۔ انصاف تو تلنگانہ کے دلتوں کو ملنا چاہئے ۔ وزیر ایس سی ویلفیر لکشمن کمار نے کے سی آر کے فارم ہاؤز پر دلتوں کی جانب سے دھرنے کے بعد مقام کی بی آر ایس کی جانب سے صفائی کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ یہ شدھی کرن دراصل دلتوں کی توہین ہے۔ انہوں نے بی آر ایس کو مخالف دلت پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کے عہدہ پر دلت شخصیت بی آر ایس قائدین کو برداشت نہیں ہے۔ وزیر امور مقننہ سریدھر بابو اور اسپیکر پرساد کمار کی اپیلوں کے بے اثر ہونے کے بعد سریدھر بابو نے بی آر ایس ارکان کی معطلی کی قرارداد پیش کی۔ قرارداد کی پیشکشی کے دوران بی آر ایس ارکان نے پوڈیم کے پاس احتجاج اور نعرہ بازی کو جاری رکھا ۔ بی آر ایس ارکان کی معطلی کے بعد اسپیکر پرساد کمار نے 10.40 بجے ایوان کی کارروائی چائے کے وقفہ کے لئے ملتوی کردی۔ تاہم دوبارہ اجلاس کا آغاز دوپہر 2 بجے ہوا۔ بی آر ایس ارکان کی معطلی کے بعد بھی بی جے پی ارکان نے احتجاج جاری رکھا۔1/k