حیدرآباد ۔ 17 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی میں بی آر ایس اور بی جے پی کے احتجاج اور نعرے بازی کے دوران تین بلز کو منظوری حاصل ہوئی اور سیاحت پالیسی پر مختصر مباحث مکمل ہوئے ۔ وقفہ کے بعد جب دوبارہ اسمبلی اجلاس کا آغاز ہوا تو اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار نے گورنمنٹ بلز پیش کرنے کی اجازت دی ۔ بی آر ایس اور بی جے پی کے ارکان اسمبلی اپنی اپنی نشستوں سے ہاتھوں میں کسان کو ہتھکڑی پہنانے کی تصویر لے کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور لگچرلہ مسئلہ پر مباحث کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بی جے پی کے ارکان بھی پوسٹرس تھام کر 6 گیارنٹی پر مباحث کا مطالبہ کیا ۔اسی دوران اسپیکر اسمبلی نے احتجاجی اپوزیشن ارکان کو اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ جانے اور بلز کی منظوری میں تعاون کرنے کی اپیل کی مگر دونوں جماعتوں کے ارکان اسمبلی بدستور احتجاج کرتے رہے اور اسپیکر کے پوڈیم کے قریب پہونچنے کی کوشش کی تاہم مارشلس نے گھیرا بناکر احتجاجی ارکان کو اسپیکر کے پوڈیم تک پہونچنے سے روک دیا ۔ بی آر ایس اور بی جے پی کے ارکان اسمبلی وہیں کھڑے ہو کر احتجاج کرتے رہے اور نعرے بازی کرتے رہے اس دوران اسپیکر نے بغیر کسی مباحث کے بلز پیش کرنے کی وزراء کو ہدایت دی ۔ چیف منسٹر کی جانب سے ریاستی وزیر کونڈا سریکھا نے اسپورٹس یونیورسٹی کا بل پیش کیا ۔ کانگریس کے رکن اسمبلی راج ٹھاکرنے مباحث کا آغاز کیا لیکن اپوزیشن کے شور و غل کے درمیان ینگ انڈیا فزیکل ایجوکیشن اسپورٹس یونیورسٹی بل ، یونیورسٹیز ترمیمی بل ، تلنگانہ جی ایس ٹی بل کو ریاستی وزراء کونڈا سریکھا ، دامودھر راج نرسمہا اور ڈی سریدھر بابو نے پیش کیا ۔ ان بلز کو بغیر کسی مباحث کے منظوری دے دی گئی ۔ اس کے بعد ریاستی وزیر سیاحت جے کرشنا راؤ نے سیاحت کی نئی پالیسی کو مختصر مباحث کے دوران متعارف کرایا ۔ گورنمنٹ وہپ اے سرینواس ریڈی نے اس کی تائید کی ۔ اس دوران بھی بی آر ایس اور بی جے پی کے ارکان احتجاج کرتے رہے ۔ اسپیکر اسمبلی نے ایوان کی کارروائی دوسرے دن چہارشنبہ صبح 10 بجے تک ملتوی کردی ۔ اس سے قبل ریاستی وزیر آئی ٹی و امور مقننہ سریدھر بابو نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی نے بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں 15 تا 16 موضوعات کو پیش کیا ہے ۔ اسپیکر اسمبلی نے بی آر ایس کے ارکان کو وقت دینے کا تیقن دیا ہے لیکن بی آر ایس کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان کا وقت ضائع کررہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے بلز سے بی آر ایس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ بی جے پی کے ارکان اسمبلی 6 گیارنٹی پر مباحث کا مطالبہ کررہے ہیں ۔وہ انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے اپنے اسمبلی حلقوں کو پہونچکر 6 گیارنٹی سے جو عوام فائدہ اٹھا رہے ہیں ان سے ملاقات کریں ۔ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ لگچرلہ اور ریسیڈنشیل اسکولس کے مسائل پر اگر اسپیکر اسمبلی مباحث کی اجازت دیتے ہیں تو ہم بات چیت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔ لگچرلہ کا مسئلہ بی آر ایس کا پیدا کردہ ہے ۔ بی آر ایس کے 17 کارکن جن کی اراضی بھی نہیں ہے انہوں نے ایک منظم سازش کے تحت گڑبڑ کی جس کی وجہ سے کسانوں کو جیل جانا پڑا ہے ۔2
کسانوں کے مسائل پر بات کرنے کا بی آر ایس کو اخلاقی حق بھی نہیں ہے ۔ سیاحت کی پالیسی اور اسپورٹس یونیورسٹی پر انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
کانگریس حکومت نے اندرون ایک سال کسانوں کے 21 ہزار کروڑ روپئے فی کس 2 لاکھ روپئے کے حساب سے معاف کرچکے ہیں ۔ 2