اسمبلی میں علی الحساب بجٹ منظور ‘ چھ ضمانتوں کیلئے 53 ہزار کروڑ مختص

   

پرانے شہر میںمیٹرو ریل کا وعدہ ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اوورسیز اسکالر شپ رقم کی قسطوں میں ادا ئیگی ۔ : ڈپٹی چیف منسٹر

حیدرآباد /15 فروری ( سیاست نیوز ) تلنگانہ اسمبلی میں علی الحساب بجٹ منظور ہوگیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر بٹی وکرامارک نے کہا کہ 6 گیارنٹی پر عمل کرنے بجٹ میں 53 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے اور کہا کہ ریاست پر 7.11 لاکھ کروڑ روپئے قرض کا بوجھ عائد ہوگیا ہے۔ ابھی تک محصلہ قرض اور سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرض کی ضرورت ہے۔ حکومت ایف آر بی ایم کے حدود میں قرض حاصل کریگی۔ بازار گھاٹ آتشزدگی مہلوکن کے ورثاء کو کانگریس حکومت ایکس گریشیا ادا کریگی۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے تبادلہ خیال کے بعد جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ حکومت پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ چندرائن گٹہ میں تین نئے فلائی اوورس تعمیر کرنے کے حق میں ہے۔ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اوورسیز اسکالر شپ کے بقایا جات اقساط پر ادا کئے جائیں گے۔ بجٹ مباحث پر جواب میںڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس حکومت نے حقائق پر مبنی بجٹ پیش کیا۔ حکومت کی آمدنی اور اخراجات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد حقیقی بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ گذشتہ 10 سال میں ریاست کے حقیقی مالی موقف کا اضافہ کرکے بجٹ پیش کیا گیا ۔ معاشی موقف کو چھپانا بڑی غلطی ہے۔ مالیاتی ڈسپلن نہ ہونے سے ریاست پر قرض کا بوجھ بڑھ گیا ۔ رعیتو بھروسہ اسکیم کیلئے 15.075 کروڑ، اندراماں مکانات کیلئے 7500 کروڑ مختص کئے گئے ۔ ریاست کے ہر اسمبلی حلقہ میں 3,500 مکانات تعمیر کئے جائیں گے۔ گروہا جیواسکیم کے تحت مفت برقی کیلئے 2418 کروڑ، 500روپئے گیس سلینڈر کیلئے 723 کروڑ سوشیل ویلفیر کیلئے 5815 کروڑ ، قبائیلی بہبود کیلئے 2800 کروڑ ، محکمہ پنچایت راج کیلئے 40 ہزار کروڑ مختص کئے گئے۔ حکومت 2 لاکھ ملازمتوں کی فراہمی کیلئے عہد کی پابند ہے۔ پبلک سرویس کمیشن تشکیل دیا گیا ۔ کمیشن عملہ کے علاوہ 40 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ حال ہی میں تقریباً 7 ہزار اسٹاف نرسیس، 15 ہزار پولیس ملازمین اور 400 سے زائد سنگارینی ایمپلائز کا تقرر کیا گیا ۔ 16 کروڑ خواتین نے آر ٹی سی بسوں میں سفر کیا ہے۔ ڈی ڈی آر سی کمیٹیوں کا احیاء کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس پر غور ہوگا۔ ریاست کے معاشی موقف کو مستحکم کرنے عوام پر بوجھ عائد کئے بغیر نئے راستے تلاش کئے جائیں گے۔ کانگریس حکومت کا یہ پہلا عبوری بجٹ ہے مکمل بجٹ میں تمام وعدوں کا احاطہ ہوگا۔ کانگریس کی عوامی حکومت ہے یہ فیصلہ ایوان کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا من مانی یا یکطرفہ فیصلے نہیں ہونگے۔ اپوزیشن کی صحتمندانہ تجاویز کو قبول کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر نظرِثانی کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ اُمید ہے کہ 6 ماہ میں رپورٹ وصول ہوگی۔ پرانے شہر کو خوبصورت بنانے وسیع تر اقدامات کئے جائیں گے ۔ 2