تمام جماعتوں کا قرار داد کو قانونی موقف عطا کرنے اور سروے کے لیے وقت مقرر کرنے پر زور
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : کانگریس حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ ذات پات مردم شماری کی قرار داد متفقہ رائے سے منظور کرلی گئی ۔ ریاستی وزیر بی سی ویلفیر پونم پربھاکر نے اسمبلی میں قرار داد پیش کی جس کے بعد بی آر ایس ، بی جے پی ، مجلس ، کانگریس اور سی پی آئی کے ارکان نے اس قرار داد کی مکمل تائید وحمایت کرتے ہوئے اس قرار داد کو قانونی موقف فراہم کرنے کے لیے مختلف تجاویز اور مشورے بھی دئیے ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی کے ٹی آر نے اس قرار داد کا خیر مقدم کرتے ہوئے سروے کو کامیاب بنانے کے لیے ایوان کی کارروائی میں مزید دو دن کی توسیع دینے کی اپیل کی ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی گنگولہ کملاکر نے قرار داد کو قانونی موقف عطا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس مسئلہ کو عدالتی کشاکش سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ۔ مجلس کے قائد مقننہ اکبر الدین اویسی نے اس قرار داد کو کانگریس کا انتخابی وعدہ قرار دیا ۔ انہوں نے قرار داد کے بجائے بل پیش کرنے اور اس کو قانونی موقف عطا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بی آر ایس حکومت نے جامع خاندانی سروے کرایا اس کو منطر عام پر نہیںلایا گیا ۔ کانگریس حکومت اس کو اسمبلی میں پہلے ٹیبل ورک کریں ۔ اس سروے سے کس کو فائدہ ہوا ہے ۔ اس سروے سے کس کو فائدہ ہوگا اسکی بھی وضاحت کریں ۔ بی جے پی کے ڈپٹی فلور لیڈر پاٹل شنکر نے کہا کہ حکومت کی قرار داد کی بی جے پی تائید کرتی ہے ۔ کب تک سروے کیا جائے گا ٹائم مقرر کریں ۔ ماضی میں بی سی ، ای زمرے کو متعارف کرتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم میں 4 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ عدالت میں مقدمہ زیر التواء ہونے کی وجہ سے مسلم تحفظات سے تعلیم ، ملازمتوں کے علاوہ دوسرے فائدے بھی پہونچائے جارہے ہیں ۔ جس سے بی سی طبقات کو نقصان ہورہا ہے ۔ سی پی آئی کے رکن اسمبلی کے سامبا شیوا راؤ نے کہا کہ حکومت اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے سے قبل اگر کل جماعتی اجلاس طلب کرتی تو بہتر ہوتا وہ بھی چاہتے ہیں کہ قرار داد کو قانونی موقف عطا کیا جائے ۔ سی پی آئی اس قرار داد کی مکمل تائید و حمایت کرتی ہے ۔۔ 2