ووٹ کٹوا پارٹی
اظہرالدین کے خلاف سازش، مسلم امیدوار کے ذریعہ ووٹ تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی، 30 فیصد مسلم رائے دہندوں کا امتحان
حیدرآباد 7 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کے لئے کانگریس پارٹی نے شہر کے ایک اہم انتخابی حلقہ جوبلی ہلز سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا لیکن مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی مقامی جماعت مجلس نے اپنا امیدوار کھڑا کرتے ہوئے مسلم ووٹ تقسیم کرنے کی سازش کی ہے۔ سابق میں جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ سے اقلیتی رائے دہندے بی آر ایس کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ عام طور پر قومی اور علاقائی پارٹیاں پرانے شہر کے علاوہ دیگر حلقہ جات سے مسلم امیدوار کھڑا کرنے میں یہ کہتے ہوئے احتیاط کرتی ہیں کہ جنرل حلقوں سے مسلم امیدواروں کی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ اسمبلی میں گزشتہ کے مقابلہ مسلم نمائندگی صرف مجلس تک محدود ہوچکی ہے۔ بی آر ایس نے بودھن اسمبلی حلقہ سے عامر شکیل کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے جوبلی ہلز، نظام آباد اربن، نامپلی اور ملک پیٹ سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تاکہ پرانے شہر کے علاوہ دیگر حلقہ جات سے مسلم قائدین کی نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکے۔ یوں تو تلنگانہ میں 40 اسمبلی حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلم رائے دہندے فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں لیکن دیگر طبقات کی نمائندگی کے بہانے قومی اور علاقائی پارٹیاں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے سے گریز کرتی ہیں اور مجلس کو ہی مسلمانوں کا حقیقی نمائندہ تصور کیا جاتا ہے۔ کانگریس دور حکومت میں اسمبلی میں متحدہ آندھراپردیش سے بیک وقت 4 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد مجلس کے علاوہ دیگر پارٹیوں سے مسلم نمائندگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جوبلی ہلز جہاں مسلم رائے دہندے 27 تا 30 فیصد ہیں وہاں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد اظہرالدین کو کانگریس نے امیدوار بنایا ہے، اِس اُمید کے ساتھ کہ وہ دونوں طبقات کی تائید حاصل کرتے ہوئے اسمبلی کے لئے منتخب ہوجائیں گے۔ سابق رکن اسمبلی پی وشنووردھن ریڈی کی دعویداری کے باوجود کانگریس نے جوبلی ہلز سے اظہرالدین کو ترجیح دی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مقامی جماعت مجلس کو دیگر پارٹیوں سے مسلم نمائندگی برداشت نہیں ہے لہذا جوبلی ہلز سے اپنے ایک کارپوریٹر کو اسمبلی کا امیدوار بنادیا گیا جس کا واحد مقصد مسلم ووٹ تقسیم کرتے ہوئے بی آر ایس امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنانا ہے۔ محمد اظہرالدین مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقات میں بھی یکساں طور پر مقبول ہیں اور اُمید کی جارہی تھی کہ وہ کانگریس کی موجودہ لہر میں جوبلی ہلز سے منتخب ہوں گے۔ مجلس نے اچانک مسلم امیدوار کا اعلان کرتے ہوئے اظہرالدین کی کامیابی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جوبلی ہلز کے شیخ پیٹ بلدی ڈیویژن کے کارپوریٹر کو مجلس نے اپنا امیدوار بنایا ہے۔ مقامی مسلم رائے دہندوں کا تاثر ہے کہ مجلسی قیادت کو اظہرالدین کی کامیابی برداشت نہیں اور مسلم ووٹ بینک کو تقسیم کرنے کا بنیادی مقصد بی آر ایس کی کامیابی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ بی آر ایس کے موجودہ رکن اسمبلی ایم گوپی ناتھ کو 2018 ء میں 68979 ووٹ حاصل ہوئے تھے جبکہ کانگریس کے وشنووردھن ریڈی کو 52975 ووٹ ملے۔ آزاد امیدوار نوین یادو کو 18,000 ووٹ حاصل ہوئے۔ نوین یادو 2014 ء میں مجلس کے امیدوار تھے اور وہ 41656 ووٹ حاصل کرتے ہوئے دوسرے نمبر پر رہے۔ گوپی ناتھ نے 2009 ء میں تلگودیشم کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور مسلسل 3 میعادوں کے بعد بی آر ایس نے اُنھیں چوتھی مرتبہ امیدوار بنایا ہے۔ جوبلی ہلز سے تعلق رکھنے والے مجلسی قائدین بھی پارٹی کی جانب سے مسلم امیدوار کو میدان میں اُتارنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ محمد اظہرالدین اگرچہ جوبلی ہلز کے رائے دہندوں کے لئے نیا چہرہ ہے لیکن کرکٹ کی دنیا سے اُن کی مقبولیت آج بھی برقرار ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ اکثریتی طبقہ کے ووٹ اظہرالدین کو حاصل ہوں گے۔ جوبلی ہلز کے مسلم رائے دہندوں کا امتحان ہے کہ وہ کانگریس کے امیدوار کو متحدہ رائے دہی کے ذریعہ کامیاب بناتے ہیں یا پھر مجلس کی سازش کا شکار ہوکر ووٹ تقسیم کردیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیگر پارٹیوں کے مسلم قائدین کو اسمبلی اور پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہونے کا حق نہیں ہے؟ اقلیتوں کی قابل لحاظ آبادی والے علاقوں میں جب کبھی دیگر پارٹیوں سے مسلم امیدوار میدان میں آتے ہیں تو مقامی جماعت اُنھیں شکست دینے کے لئے سرگرم ہوجاتی ہے۔ محمد اظہرالدین کو اُمید ہے کہ مجلس کے مقابلہ کے باوجود وہ تمام طبقات کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے اور تبدیلی کے جذبہ کے تحت عوام اُنھیں خدمت کا موقع دیںگے۔