عنقریب بھاری تعداد میں ویزے جاری کئے جائیں گے، امریکی سفیر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد : /10 جنوری (سیاست نیوز) امریکی سفیر الیزبتھ جونس نے آج کہا کہ ہندوستانی طلبہ کیلئے اسٹوڈنٹ ویزا کی اجرائی میں تاخیر کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے امریکی حکومت سنجیدہ ہے اور اسے اولین ترجیح دے رہی ہے ۔ امریکہ قونصل خانہ حیدرآباد میں صحافیوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے جونس نے کہا کہ کورونا وائرس وباء کے نتیجہ میں امریکی ویزا کی اجرائی متاثر ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی طلبہ کو ویزا جاری کرنے کیلئے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سنجیدگی سے کام کررہے ہیں اور عنقریب اس مسئلہ کو حل کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہندوستانی طلبہ کیلئے ایک لاکھ 25 ہزار ویزے جاری کئے گئے تھے اور عنقریب بھی بڑے پیمانے پر ویزا کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر زمرے کے ویزا کے اپائنمنٹ کے وقت کو کم کرنے کیلئے بھی امریکی حکومت مسلسل کام کررہی ہے اور اضافی اسٹاف کا تقرر عمل میں لایا جارہا ہے اور ہندوستان کے تمام قونصل خانوں میں اضافی نائب قونصل آفیسرس کو مقرر کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد امریکہ کیلئے توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ یہ شہر مختلف مذاہب اور تہذیبوں کا گہوارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا نیا قونصل خانہ شہر کے علاقہ نانک رام گوڑہ فینانشیل ڈسٹرکٹ میں تعمیر کیا جاچکا ہے اور عنقریب یہاں پر سرگرمیوں کا آغاز ہوگا ۔ یہ عظیم الشان عمارت کا ہندوستان کی ایک نمایاں عمارت میں شمار ہوگا چونکہ یہاں پر بڑے پیمانے پر سفارتی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی ۔ الیزبتھ جونس نے مزید کہا کہ امریکی قونصل خانہ حیدرآباد کی نو تعمیر شدہ عمارت میں کئی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جس میں ہندوستانی عوام کو ویزا کے حصول میں آسانی اور امریکی باشندوں کو بھی سہولت فراہم کئے جانے کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ۔ ہندوستان کے گہرے تعلقات رہے ہیں اور ان میں مزید بہتری کیلئے مسلسل دونوں ملک کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی اور دفاعی معاملات میں بھی ہند ۔ امریکہ ہمیشہ آپس میں منصوبہ بند طریقہ سے کام کرتے رہے ہیں جس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں ۔ بین الاقوامی معاملات پر بات چیت کرتے ہوئے امریکی سفیر الیزبتھ جونس نے کہا کہ ہر ملک کو اس کی اپنی خارجہ پالیسی رکھنے کا اختیار ہے اور ہندوستان کے روس سے تعلقات بھی اس کا حصہ ہے ۔ انہوں نے یہ واضح طور پر کہا کہ حالانکہ ہندوستان روس کے ساتھ تیل خریدنے کیلئے اپنی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ دوسری طرف یوکرین میں انسانی ہمدردی کے تحت وہاں کی عوام کو امداد بھی فراہم کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں چار ملین ہندوستانی مقیم ہیں اور حالیہ دنوں امریکہ کے اہم عہدوں پر ہندوستان سے وابستہ افراد فائز ہوئے ہیں جن میں سیاسی شعبہ کے علاوہ ججس بھی شامل ہیں ۔