آرلنگٹن (ٹیکساس)، 15جولائی (یواین آئی) پیڈرو پوروکے دوسرے ہاف میں اہم گول کی مدد سے اسپین نے اسٹارکھلاڑیوں والی فرانس کو 2-0 سے شکست دے کر فیفا ورلڈکپ کے فائنل میں جگہ بنالی۔ اے ٹی اینڈ ٹی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے سیمی فائنل میں ہسپانوی رائٹ بیک پورے میچ میں چھائے رہے ۔ انہوں نے دفاع میں مضبوطی اور اٹیک میں جارحانہ اندازکا بہترین تال میل بٹھایا، لا روجا (ہسپانوی ٹیم) کو خطابی مقابلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کپتان میکل اویارزابال کے پنالٹی اسپاٹ سے ابتدائی برتری دلانے کے بعد، پورو کے 58ویں منٹ کے گول نے جیت تقریبا پکی کردی۔ اسپین نے شروع سے ہی گیم پر اپنا کنٹڑول برقرار رکھا اور 22ویں منٹ میں انہیں اس کا فائدہ ملا۔ فرانس کی جانب سے اسپاٹ کک دئے جانے کے بعد اویارزابل نے سکون سے پنالٹی کو گول میں تبدیل کردیا۔ اس گول نے لوئس ڈے لا کوئنس کی ٹیم کے اعتماد کو بڑھایا اور وہ اپنے شاندار پاسنگ اور نظم و ضبط کے ساتھ پریسنگ کے ذریعے کھیل کی رفتار کو کنٹرول کرتے رہے ۔ اویارزبل نے گول کا آغازکیا، لیکن پورو نے اسپین کے دبدبے کو بخوبی دکھایا۔ ٹوٹینہم ہاٹسپرکے ڈیفنڈر بار بار رائٹ فلینک سے آگے بڑھے ، اٹیک کے لئے جگہ بنائی اور ساتھ ہی فرانس کے خطرناک فارورڈزکے خلاف ڈیفنس میں بھی مضبوطی برقرار رکھی۔ ان کے کھیل کا فیصلہ کن لمحہ دوسرے ہاف کے 13ویں منٹ میں آیا۔ ڈینی اولمو نے آگے بڑھ رہے پوروکو ایک درست پاس دیا۔ پورو نے اپنی دوڑ کا وقت طے کیا اور پرسکون انداز میں گول کردیا، جس سے اسپین کی برتری دگنی ہو گئی اور فرانس کے لیے واپسی کرنا مشکل ہو گیا۔کیلین ایمباپے ، عثمان ڈیمبیلے اور مائیکل اولیس جیسے اسٹار اٹیکرز کے باوجود فرانس کی ٹیم اسپین کے منظم ڈیفنس کو توڑنے کے لیے جدوجہد کرتی نظر آئی۔ ایمباپے نے کچھ اچھے لمحات دکھائے لیکن نظم و ضبط پر مبنی اسپینش دفاعی لائن کے سامنے انہیں زیادہ جگہ نہیں ملی، جبکہ ڈیمبیلے پورے میچ کے دوران تقریباً خاموش ہی رہے ۔ڈیڈیئر ڈیسچیمپس نے دوسرے ہاف کے وسط میں تھیو ہرنینڈز، ریان چیرکی اور ڈیسیر ڈوئے کو میدان میں اتار کر میچ کا رخ بدلنے کی کوشش کی۔ ان تبدیلیوں سے فرانس کے اٹیک میں تھوڑی تیزی تو آئی۔